جب لٹ کے کربلا سے اسیرِ ستم چلے
سجاد سر برہنہ بہ درد و الم چلے روتے سَروں کو پیٹتے پابندِ غم چلے
زینب نے لاشِ شہ سےکہا بھائی ہم چلے مرنے سے آپ کے میں یہ ایذا اٹھاتی ہوں
دربار میں یزید کے سر ننگے جاتی ہوں ہے ہے مرے مسافرِ کرب و بلا حُسین ہے ہے مرے غریب مرے مہ لقا حُسین ہے ہے تجھے نہ پانی کا قطرہ مِلا حُسین ہے ہے تمام تن ترا تکڑے ہوا حُسین پیاسے گلے پہ خَنجرِ بیداد چل گیا ہے ہے تڑپ تڑپ کے ترا دم نِکل گیا لے نینوا علی کی بضاعت تجھے مِلی اے کربلا خُدا کی امانت تجھے مِلی اے خاک میری ماں کی ریاضت تجھے مِلی لے اے زمین شمعِ امامت تجھے مِلی
دامن ترا بَھرا میری کھیتی اُجڑ گئی
سرحد میں تیرے بھائی سے زینب بچھڑ گئی
یہ کہہ کے سرکو پیٹھ کے روئی وہ دِل جلی آکر نجف سے حال مرا دیکھو یا علی گردن رسن میں آپکی بیٹی کی ہے بندھی کہتی یہ ماریہ سے وہ با چشمِ تر چلی ہے ہے میں کربلائے معلیٰ میں لٹ گئی پردیس میں میں آکے برادر سے چھٹ گئی کیا لطف زندگی کا جو نقشہ بگڑ گیا کیونکر نہ تڑپوں آہ بڑا پیج پڑ گیا اس قافلہ کا قافلہ والا بچھڑ گیا ہے ہے ہمارا کیسا بھرا گھر اُجڑ گیا پردیسیوں نے چھاؤنی جنگل میں چھائی ہے
بھائی نے میرے اِک نئی بستی بسائی ہے مہماں بُلا کے ہم سے دغا کی لعینوں نے
کیا کیا نہ ہم پہ جور و جفا کی لعینوں نے
کچھ بھی ذرا نہ شرم و حیا کی لعینوں نے گردن قِفا سے شہ کی جُدا کی لعینوں نے
خیمہ جلا کے اہلِ سِتم شاد ہو گئے ہم کربلا میں آن کے برباد ہو گئے
بھائی پہ میرے سامنے نیزے چلا کئے تیغ و تَبر بدن پہ برابر لگا کئے
شبیر شکر ، شکر ہی منھ سے کہا کئے اُترانہ شمر سینہ سے بے سر جدا کئے روتی رہی میں وہ سرِ شبیر لے گیا
بھائی کی میرے خوں بھری تصویر لے گیا
فریاد ہم غریبوں کی سنتا نہیں کوئی کِس سے کہیں جو ہم پہ مصیبت گزر گئی
چادر بھی مُنہ چھپانے کو سر پر نہیں رہی
سر کھولے شہرِ شام میں آںٔی میں دل جلی اعداء ہمیں دکھا کے سرِ شہ رُلاتے ہیں اب سامنے شقی کے مجھے لیکے جاتے ہیں