زنداں میں مقید ہوئے جسدم حرمِ شاہ انبوهِ خلائق ہوا دروازہ پہ ناگاہ
بلوہ ہوا اس درجہ کہ مسدود ہوئی راہ
سر شرم سے زنجیر پہ عابد نے رکھا آہ تھا وہ عرقِ شرم اسیروں کے بدن میں روتا تھا ہر اک عضو غمِ شاہِ زمن میں مشغول جو تھے کھیل میں اطفال وہ سارے کرتی تھی سکینہ وہاں حسرت سے نظارے کہتی تھی کہ کیا ہو گئے ہمجولی ہمارے
بابا علی اصغر کو کہاں لے کے سدھارے
سب بچے یہاں کھیلتے ہیں خندہ زناں ہیں میں کھیلتی تھی جن سے وہ اطفال کہاں ہیں ناگاه نمودار ہوئی شامِ غریباں
آیا غضب آلود وہاں شمرِ بدایماں اک اک سے مخاطب ہوا وہ دشمنِ یزداں اب جاؤ کہ ہوتا ہے مقفل درِ زندان ہوئے گی رہائی نہ کبھی آلِ عبا کی کل دیکھیؤ پھر سیر اسیرانِ بلا کی یہ سُن کے پریشاں ہوا انبوہ وہ سارا گم ہو گیا اک شخص کا فرزند قضارا
چلایا پدر اُس کا رہا دل پہ نہ یارا
فرزند بھی بابا اُسے کہہ کہہ کے پکارا وہ طفل لپٹنے جو لگا آکے پدر سے پیدا ہوئی اک آہ سکینہ کے جگر سے
بھر بھر کے دمِ سرد یہ کی بانو سے گفتار
اس بچہ کو دیکھو تو کہ کیا خوش ہے یہ دلدار
کیا نامِ پدر پیار سے لیتا ہے ہر اک بار
اک ہم ہیں کہ ہیں باپ کی فرقت میں گرفتار
دل میں جو میرے درد ہے خالق پہ عیاں ہے میں کس کو کہوں باپ میرا باپ کہاں ہے
بابا میرے ہوتے تو انہیں کہتی میں بابا اب باپ کہاں جس کو کہوں باپ میں دکھیا یوں کوئی پدر بیٹی سے غافل نہیں ہوتا
حیران ہوں بابا کے وہ اشفاق ہوئے کیا اعدا نے ہمیں قید کیا شام میں لاکر
بابا میرے کیوں مجھ کو نہیں ڈھونڈھتے آکر یہ کہہ کے سکینہ پہ جو رقت ہوئی طاری
بس ہائے پدر کہہ کے کئی بار پکاری تڑپی جو زمیں پر تو زمیں ہل گئی ساری
جھنجھلا کے کہا شمر نے پھر کرتی ہو زاری اب خوب رلاؤں گا تجھے میں نہ ڈروں گا رہ تجھ کو اسیروں سے جدا قید کروں گا پھر شمر نے بازوئے سکینہ کو جو پکڑا کنبہ کی طرف اُس نے عجب یاس سے دیکھا
سب قیدیوں میں ایک قیامت ہوئی برپا
سجاد کے قدموں پہ مچل کر گری دکھیا
یوں لپٹی تھی بھائی سے وہ اس خوف و خطر میں
اک ہاتھ تو گردن میں تھا اک ہاتھ کمر میں
منھ دیکھ کے سجاد کا کہتی تھی وہ ڈر کر اب آپ میرے رونے کے ضامن ہو برادر گر تم سے چھٹی زیست میری ہوئے گی کیونکر اب روؤں تو جو چاہے کرے شمر ستمگر
بھیا مجھے تو شمر سے اِس وقت بچالے اب روؤں تو کر دیجیو ظالم کے حوالے اب روئی سو میں روئی نہ اب روؤنگی زنہار اب روؤں اگر باپ کو اپنے تو گناہ گار
فرماؤ کہ اب چھوڑ دے مجھ کو یہ جفا کار
بازو میرا دکھنے لگا ائے عابدِ بیمار کس طرح جدا کنبہ سے ہوئے گی سکینہ
تم کہد و قسم کھا کے نہ روئے گی سکینہ یہ کہتی تھی کھینچا جو ستمگر نے قضارا کُرتا تو پھٹا تھا وہ پھٹا اور بھی سارا تب عابدِ بیمار نے روکر یہ پکارا ائے شمر یہ بن باپ کی بیٹی ہے خدارا
غافل تیری دہشت سے نہ ہوئیگی سکینہ اب ایسا ڈری ہے کہ نہ روئیگی سکینہ