Kanz e Aza

فرزندوں کو پھر فاطمہ زہرا نے بلایا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

فرزندوں کو پھر فاطمہ زہرا نے بلایا

چھاتی سے لگایا کبھی سینے سے لگایا

بالائے جبیں بو سے لئے اور یہ سنایا لو پیارو کہ ہنگام جدائی کا اب آیا اب تم سے جدا ہوتی بتولِ عذرا ہے یہ آخری زہرا نے تمہیں پیار کیا ہے

حیدر سے کہا اِن کو نہ پہنچے کوئی ایذا

یہ ہیں میرے پیارے کبھی اِن کو نہ گھر کنا

اور آپ سے اک عرض یہ اب کرتی ہے زہرا پڑھیو میرے مردے پہ نماز ائے میرے مولا

فرقت میں نہ ان دونوں کی تڑپائیو صاحب

بچوں کو میری قبر پہ تم لائیو صاحب نازک ہے مزاج اِن کا یہ معلوم ہے مولا ہر بات میں بے ساختہ رو دیتا ہے چھوٹا ہے خوف اُلٹ جائے نہ سینے میں کلیجہ

تم اس کو میرے مردے پہ بھی رونے نہ دینا

سب گود میں لیں مرتبہ قرآں کا سمجھ کر

گُھر کے نہ کوئی اب اِسے بن ماں کا سمجھ کر یہ کہہ کے کیا بند درِ حجرۂ اَطہر

سب خُرد و کلاں آن کے رونے لگے باہر

آواز سنی کلمۂ طیب کی برابر

پھر کچھ نہ صدا آئی کہا سب نے یہ رو کر رحلت ہوئی بس آج رسول عربی کی لو اُٹھ گئی دنیا سے نشانی بھی نبی کی القصہ وہ دن ماتمِ زہرا میں جو گذرا

شب آئی کھلے گیسوؤں سے دینے کو پرسہ

حیدر نے کیا غسل کا سامان مہیا معصومہ کے اک ہاتھ میں جو زخم لگا تھا وه دستِ بتول آه خمیدہ نظر آیا یہ دیکھتے ہی منھ کو علی کے جگر آیا نہلا کے جو کفنانے لگے میت زہرا

زینب نے کہا ہاتھوں سے سر پیٹ کےاپنا اماں کا میرے ہاتھ تو سیدھا کرو بابا وہ روکے پکارے یہ خمیدہ ہی رہے گا تابوت میں پھر میتِ زہرا کو لٹا کر

سب سے کہا لو بی بیو رخصت کرو آ کر کہتے تھے علی فاطمہ کے مردے سے یہ بات

بس فاطمہ بس ہو چکی بیٹوں سے ملاقات

فرزندوں کی گردن سے جدا کیجئے اب ہاتھ

رخصت بھی ہو اب زندوں کا اور مردے کا کیا ساتھ

چلنے میں مسافر کے یہ دیری نہیں ہوتی میت سے صدا آئی کہ سیری نہیں ہوتی

صاحب میرے بچوں کو چھڑاؤ نہ خدارا

خاطر سے میری دیر کرو اور گوارا ہوئیگا میری روح پہ احسان تمہارا

بچوں سے زیادہ مجھے کوئی نہیں پیارا معصوموں سے دم بھر میں بچھڑ جائیگی زہرا پھر کا ہے کو یوں سینے سے لپٹائی زہرا