Kanz e Aza

بھیا میں بن تمھارے وطن کو نہ جاؤں گی

A marsiya. Lyrics in Urdu.

بھیا میں بن تمھارے وطن کو نہ جاؤں گی

بھیا یہیں میں قبر پہ آنسو بہاؤں گی نالوں سے آسماں و زمیں کو ہلاؤں گی نذرِ حسین پیاسوں کو پانی پلاؤں گی

جو پوچھے گا تو روتی ہے کیوں شور و شین سے کہدونگی چھٹ گئی ہوں میں بھائی حسین سے

سجاد رو کے کرتے تھے زینب سے یہ سخن

چلئے پھوپی خدا کیلئے اب سوئے وطن رو رو کے جان دو نہ یہاں بہرِ ذوالمنن ہونا ہے قید تم کو دوبارہ بصد محن روضہ پہ نانا جان کے اب جا کے روئیے

درّوں کے زخم پشت پہ دکھلا کے روئیے یہ سُن کے اُٹھی قبر سے آخر وہ سوگوار اک ہودجِ سیاہ میں آکر ہوئی سوار پہونچے وطن میں جس گھڑی سجادِ دلفگار پہلے گئی بقیعہ میں زہرا کی گلعزار

بولی لیٹ کے قبر سے اماں دہائی ہے

بھائی کو کھو کے زینبِ ناشاد آئی ہے اماں سناؤں تم کو میں جو کچھ جفا ہوئی پردیس میں حسین سے زینب جدا ہوئی

چوتھے برس میں باپ پہ بیٹی فدا ہوئی اماں حسین مر گئے میں بے ردا ہوئی

دل زندگی سے زینبِ مضطر کا ہٹ گیا میں دیکھتی رہی سرِ شبیر کٹ گیا اماں تمھارے لال کو کیا کیا نہ غم ہوئے لاشے کے ہاتھ انگوٹھی کی خاطر قلم ہوئے مردہ پہ میرۓ بھائی کے تازہ ستم ہوئے پامال لاش ہوگئی برباد ہم ہوئے گوہر سکینہ کے بھی اُتارے ہیں شمر نے

درے ہماری پشت پر مارے ہیں شمر نے اماں تیرے مریض کو قیدی بنایا تھا

طوقِ گراں بخار میں اُس کو پنہایا تھا کانٹوں پہ ننگے پاؤں عدو نے پھرایا تھا اماں سوائے شکر نہیں لب ہلایا تھا

بلوایا تھا یزید نے دربارِ عام میں اماں سکینہ مرگئی زندانِ شام میں ائے اماں ایک رسی میں بندھوایا تھا ہمیں اونٹوں کی ننگی پشت پہ بٹھلایا تھا ہمیں

سر طشت میں حسین کا دکھلایا تھا ہمیں

عابد کو درے مار کے رلوایا تھا ہمیں

حیرت ہے کیوں نہ زینبِ ناشاد مرگئی اماں میں سر کھلے ہوئے شیریں کے گھر گئی

اماں پھرا کے کوفہ میں پھر ہم کو کوبہ کو

سر ننگے سوئے شام ہمیں لے چلے عدو پہونچے جو شہرِ شام میں ہم سب کشادہ مو

بازاریوں میں شور یہ ہوتا تھا چار سو

بیٹی علی کی زینبِ دلگیر آئی ہے

دیکھو چلو حسین کی ہمشیر آئی ہے