ائے مومنو حسین سے مقتل قریب ہے
آخر ہے عمر منزلِ اول قریب ہے
شہرِ مدینہ دور ہے جنگل قریب ہے
زہرا کا چاند چھپتا ہے بادل قریب ہے لینے کے واسطے ملک الموت آتے ہیں مقتل کو اپنے پاؤں سے شبیر جاتے ہیں القصہ صبح منزلِ آخر عیاں ہوئی لیکن یہ صبح سبطِ نبی کو کہاں ہوئی
جس جا سواری رک کے نہ آ گے رواں ہوئی
حیراں سپاہِ خسر وِ کون و مکاں ہوئی
چھ گھوڑے بدلے دوشِ نبی کے سوار نے لیکن قدم بڑھایا نہ اک راہوار نے
جنبش جو مرکبوں میں نہ پائی حسین نے اک مشت خاک جھک کے اُٹھائی حسین نے
خود سونگھی اور بہن کو سنگھائی حسین نے ہمشیر کی سنی یہ دوہائی حسین نے
ہے ہے یہ خاک پھینکو میر ی جان جاتی ہے
بھیا تمہارے خون کی بو اس سے آتی ہ
عباس کو پکارۓ نہ آگے علم بڑھاؤ منزل یہی ہے چھاؤنی پردیسیوں کی چھاؤ ہم شکلِ مصطفیٰ کو ندا دی بڑھے نہ جاؤ
بیٹا قناتیں گھیرو سراچے یہیں لگاؤ
غرے کو تو ہوا ہے ہمارا سفر تمام
دسویں کو ہوگا فاطمہ زہرا کا گھر تمام القصہ خیمے ہو گئے اِستادہ جابجا
ِاور خیموں میں اترنے لگے آلِ مصطفٰے
ڈیوڑھی سے پر کجاؤہ زینب نہیں ملا
خود اہتمام کرنے لگے شاہِ کربلا روکی قناعت اکبر و قاسم نے آن کر
عباس گرد پھرنے لگے نیزہ تان کر مسند پہ یاں بٹھا کے بہن کو شہ ہدا کرسی بچھا کے بیٹھے قریبِ حرم سرا تھے دست بستہ گرد جوانانِ باوفا لے لے کے نذریں آئے زمیندارِ کر بلا اِستادہ فرطِ خلق سے شبیر ہو گئے نذروں پہ ہاتھ رکھ کے بغل گیر ہو گئے
بٹھلا کے پہلوؤں میں انھیں یہ کیا بیاں ائے کربلائیو میں تمہارا ہوں مہماں
ظالم مجھے ستاتے ہیں جاتا ہوں میں جہاں
بیچو جو یہ زمین تو چند دن رہوں یہاں رہنے سے میرے سب یہاں آرام پائیں گے
خاکِ شفا تمہاری زمیں کو بنائیں گے
دینار دے کے ساٹھ ہزار اُن سے یہ کہا
بخشی تمہیں زمین ہبہ میں نے کردیا
شبیر کے معاملے پہ سب نے رو دیا لکھنے لگے قبالہ زمیندارِ کربلا
غل پڑ گیا حسین وطن کو نہ جائیں گے لو مول کی زمیں یہیں بستی بسائیں گے مرقوم ہورہا تھا قبالہ کہ ناگہاں
خیمہ سے اک زنِ عربیہ ہوئی عیاں
سر تا قدم نقاب سے سارا بدن نہاں پر اس پہ یہ حیا کہ لرزتے تھے استخواں
بیتاب ہو کے الفتِ اکبر سے آیٔ تھی
راوی نے یہ لکھا ہے وہ زہرا کی جایٔ تھی لے کر بلائیں بھائی کے کچھ کان میں کہا اور جلد یوں پھری کہ نہ سایہ نظر پڑا
ِکرسی سے یاں تڑپ کے گرے شاہ کربلا
عباس نے اٹھا کے کہا ہائے کیا ہوا مولا بتا قسم تجھے شیرِ بتول کی کیا کہہ گئی نواسی جناب رسول کی
بھیا قبالہ میں مرے اکبر کا ہوئے نام یعنے کے اُس کی ملک میں ہوئے زمیں تمام
عباس جاؤ کہہ دو کہ مجبور ہے امام اٹھارہ سال کے یہ زمانے سے جائیں گے اک قبر کی جگہ علی اکبر بھی پائیں گے
عباس آئے خیمے میں کہنے کو یہ پیام
دولھا بناؤں گی میں دلھن بیاہ لاؤں گی اکبر کے نام کی یہاں بستی بساؤں گی اب وقت ہے دعا کا کہ ہے شدتِ بکا
آمیں کہیں دبیر محبانِ مرتضا یا رب ہیں جتنے شیعۂ سلطانِ لافتا مقصد بر آئیں سب کے مع بانیٔ عزا
ِیا رب نہ کوئی غم ہو اِنھیں جز غم حسین
ِاِن دوستوں کے ہاتھ ہوں اور ماتم حسین