Kanz e Aza

کسی کا خانہ اُمید بے چراغ نہ ہو

A marsiya. Lyrics in Urdu.

کسی کا خانہ اُمید بے چراغ نہ ہو

جوان بیٹے کا دل کو پدر کے داغ نہ ہو ہزار باغ لٹیں پر خزاں یہ باغ نہ ہو

پسر کے غم میں پریشاں دل و دماغ نہ ہو

فلک بلا کا شہ کربلا پہ ٹوٹا ہے مسافری میں برابر کا لال چھوٹا ہے

ِوہ لال جس کو نہ پہنچے کوئی در شہوار وحیدِ عصر شباہت میں احمدِ مختار ہمیشہ مِثل علی روزه دار شب بیدار

شجاع و متقی و خوش مزاج غیرت دار یہ سب کمال ملے زیرِ خاک اک دن میں تمام ہو گئے اٹھارہ سال کے سِن میں

بتول کہتی تھی فریاد یا علی فریاد میری بہو ہوئی برباد یا علی فریاد

بجائے رحم ہے بیداد یا علی فریاد

خدا کے واسطے دو داد یا علی فریاد

دھائی یوسفِ آلِ عبا کو مارا ہے

جواں کو مارا ہے ناکتخدا کو مارا ہے لکھا ہے وا اَبتا کی جو نہی صدا آئی

حسین امام کے چہرے پہ مردنی چھائی وہ آہ کی کہ ضریحِ رسول تھرائی روانہ ہوگئی اشکوں کے ساتھ بینائی

سوارِ دوشِ پیمبر کی آس ٹوٹ گئی

عنانِ صبر کو تھامی لگام چھوٹ گئی پکارتے ہیں پسر کو پسر نہیں آتا

جگر میں درد ہے لختِ جگر نہیں آتا کوئی رفیقِ شہ بحروبر نہیں آتا تمھارے بھائی کو رستہ نظر نہیں آتا پسر کے غم میں خوزادہ میرا ہلاک ہوا

بسا بسایا گھر اُنسٹھ برس کا خاک ہوا یہاں تو فضہ یہ کرتی تھی درد کی تقریر

عصائے آہ اُٹھا کر اُدھر چلے شبیر اندھیرا سامنے آنکھوں کے اور دل تغیر ہر ایک بار یہ نعرہ کہ یا جنابِ امیر کبھی اُٹھے کبھی سلطانِ مشرقین گرے لکھا ہے یہ کہ بہتر جگہ حسین گرے

قدم قدم پہ ٹہرتے تھے شاہِ تشنہ گلو ہوا میں سونگھتے تھے اپنے لال کی خوشبو

زمیں پہ بیٹھ کے گاہے بہاتے تھے آنسو تلاش کرتے تھے ہاتھوں سے لاش کو ہر سو

جو کوئی پوچھتا تھا کیا حضور ڈھونڈھتے ہیں

تو رو کے کہتے تھے آنکھوں کا نور ڈھونڈھتے ہیں

قریبِ فوج جو سلطانِ بحروبر آئے پکارے ہنس کے عدو خیر ہے کدھر آئے یہ کون مرگیا جو آپ ننگے سر آئے پیادہ دھوپ میں تھامے ہوئے جگر آئے یہ کون چاند ہوا آج دور آنکھوں سے کہ چین دل سے گیا اور نور آنکھوں سے کہا حسین نے روکر تمھیں نہیں معلوم ہمارے گھر میں ہے محشر تمھیں نہیں معلوم مٹی شبیہہ پیمبر تمھیں نہیں معلوم

چُھٹا حسین سے اکبر تمھیں نہیں معلوم رُلانے کو یہ امامِ اُمم سے پوچھتے ہو

چھری پھرا کے کلیجہ پہ ہم سے پوچھتے ہو ائے آنکھیں والو میرا نورِ عین کس جا ہے

جوانو بولو میرے دل کا چین کس جا ہے

جوانِ فاتحِ بدر و حنین کس جا ہے

ضعیفو عینکِ چشمِ حسین کس جا ہے کہو رسول کی تصویر کو کہاں کھویا

عصائے پیریٔ شبیر کو کہاں کھویا پکارا شمر کہ کوئی نہیں بتانے کا

بڑا ثواب ہے سادات کے رُلانے کا نہ زندہ چھوڑیں گے بچہ بھی اِس گھرانے کا ارادہ ہے علی اصغر کے خوں بہانے کا

جو تیر پار ہو ننھے گلے سے عید کریں تمھاری گود میں ششما ہے کو شہید کریں

ضعیف باپ کی پیری پہ رحم فرماؤ

قدم قدم پہ نہ جنگل کی خاک چھنواؤ

جو مجھ پر ہنستے ہیں تم انکو آنکھ دکھلاؤ

علی کا نام لو اور دوڑ کر چلے آؤ

بُلا لو دادا کو نزدیک ہے نجف بیٹا اکیلے پاؤں رگڑتے ہو کسطرف بیٹا