Kanz e Aza

چہلم جو کربلا میں بہتر کا ہو چکا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

چہلم جو کربلا میں بہتر کا ہو چکا پیوند بیکسوں کے تن و سر کا ہو چکا اور فاتحہ حسین کے لشکر کا ہو چکا

قبروں پہ شور آلِ پیمبر کا ہو چکا ماتم میں تین روز رہے شور و شین سے روئے لپٹ لپٹ کے مزارِ حسین سے مثل چراغ گورِ غریباں پہ دل جلائے پھولوں کے ساتھ قبروں پہ لختِ جگر چڑھائے

پیاروں کی بود و باش کے ساماں جو یاد آئے

بے ساختہ پکارے کلیجے پکڑ کے ہائے ہے ہے وہ پردہ دار ہمارے کدھر گئے


بے پردہ ہو کے آلِ نبی در بدر گئے مقتل کے آس پاس یہ بیوؤں کی تھی فغاں

زینب جبیں لحد پہ دھرئے کرتی تھی بیاں ائے میرئے کربلائی برادر حسین جاں ہمشیر تین دن سے تمھاری ہے مہماں اللّٰہ میری بات بھی پوچھی نہ آپ نے


زنداں کی واردات بھی پوچھی نہ آپ نے راضی ہوں جو رضائے امامِ جلیل ہے پر قابلِ ملاحظہ بازو کا نیل ہے نے کوئی داد رس ہے نہ کوئی کفیل ہے

بھائی بغیر آپکے زینب ذلیل ہے پشت و پناہ اُٹھ گیا بے خانماں ہوئی

دیکھو یہ پشت قابلِ نوکِ سناں ہوئی مرجاںٔیں سب یتیموں کے سر پر رہوں تو میں

بچپن میں اُنکی قید کی ایذا سہوں تو میں


بہلانے کو تمہاری کہانی کہوں تو میں

ماں ہوں تو میں پھوپی ہوں تو میں باپ ہوں تو میں


ان کا بھی داغ آج ملے یا کہ کل ملے ایسے نہیں نصیب کہ خدمت کا پھل ملے میں جانتی تھی شہر بسا ہوگا بھائی کا ہوگا ہجوم قبر پہ ساری خدائی کا

چہلم کرونگی دھوم سے میں کر بلائی کا پرساں بھی یاں کوئی نہیں زہرا کی جائی کا منھ ڈھانپنے کو آپ ہی پلا بھی لیتی ہوں

اور اپنے دل کو آپ ہی پر سہ بھی دیتی ہوں

چہلم تو کر چکی میں دل افگار یاحسین اب روضہ کس طرح سے ہو تیار یاحسین


بیٹا بھی اور بہن بھی ہے نادار یاحسین

آخر کبھی تو آئینگے زوار یاحسین تکیہ ہے کارسازیٔ پروردگار پر اس دم تو سائباں بھی نہیں ہے مزار پر ہونے لگا سوار رسالہ بشیر کا


ڈنکا بجا حرم کے وداع اخیر کا

خیمہ اُٹھا لحد سے شہ بے نظیر کا اور سب تبرکات جنابِ امیر کا تربت کے گرد اونٹ برابر کھڑے ہوئے رُخصت کو جمع قبر پہ چھوٹے بڑے ہوئے

زینب پکاری کوچ کا سامان ہو گیا پھر شہر میرے بھائی کا ویران ہو گیا اور مقبرہ حسین کا سنسان ہو گیا ہو کا مقام قتل کا میدان ہو گیا

آئی مسافروں کو میرئے وہ زمیں پسند


دنیا میں جس زمین کو بستی نہیں پسند ائے کربلائے سرورِ دلگیر الوداع ائے قتل گاہِ حضرتِ شبیر الوداع ائے قبر ابنِ صاحبِ تطهير الوداع ائے بھائی جان جاتی ہے ہمشیر الوداع کیا بے نصیب ہے یہ نواسی رسول کی تم نے مجاوری نہ ہماری قبول کی

بھیا اُٹھو کجاوئے میں مجھ کو تم ہی بٹھاؤ


بھیا میں بے نقاب ہوں رہگیروں کو ہٹاؤ روکیں قنات اکبر و عباس کو بلاؤ

خالی ہے گود بھابی کی اصغر کو لیتے آؤ

سردار سارے قافلہ کے آگے ہوتے ہیں تیار کارواں ہوا اور آپ سوتے ہیں کب سے تمھیں پکار رہی ہوں میں خستہ تن ہے ہے جواب بھی نہیں دیتے شہ زمن

بھیا گلے لگالو تو جاؤں سوئے وطن


آئی ندا سدھارو خدا حافظ ائے بہن

صغرا کو میری سمت سے بھی پیار کیجیو ہوگا ثواب خاطرِ بیمار کیجیو