Kanz e Aza

بانو کے شیر خوار کو ہفتم سے پیاس ہے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

بانو کے شیر خوار کو ہفتم سے پیاس ہے

بچے کی نبض دیکھ کے ماں بے حواس ہے

نے دودھ ہے نہ پانی کے ملنے کی آس ہے پھرتی ہے آس پاس یہ جینے سے پاس ہے کہتی تھی کیا کروں میں دُہائی حسین کی پتلی پھری ہے آج مرے نورِ عین کی

فریاد یا علی میں کدھر جاؤں یا علی اِن داغوں کو کہاں سے جگر لاؤں یا علی کس طرح اِن کی سانس کو ٹہراؤں یا علی پانی کا قحط ہے میں کہاں پاؤں یا علی پچھلی کو آنکھ کھولے تھے اب کھولتے نہیں روتے نہیں ہمکتے نہیں بولتے نہیں

آخر کہا یہ سب نے بلاؤ اِمام کو لاؤ خدا کے واسطے لاؤ اِمام کو اس بے زباں کا حال سناؤ اِمام کو نیلی رگیں گلے کی دِکھاؤ اِمام کو اکبر کی لاش لے گئے ہیں قتل گاہ میں کوئی پکار لو وہ ابھی ہونگے راہ میں منھ پر جوان بیٹے کا تازہ لہو لگائے ماتم سرا میں گنجِ شہیداں سے شاہ آئے

جھولے پہ ہاتھ پکڑے ہوئے اہلبیت لائے

بچے کے ہاتھ پاؤں ہلا کر انھیں دکھائے روکر کہا کہ سانس فقط آشکار ہے ہو اسکا کیا حساب کہ دم کا شمار ہے

بیٹھے سرہانے جھولے کے شبیر سر جھکائے اصغر کے کان سے لبِ معجز نما ملائے

چپکے سے کچھ کہا کہ وہ سنتے ہی مسکراۓ

سوۓ حسین ہاتھ بھی بے ساختہ بڑھائے

بولی سکینہ بابا نے مشکل کشائی کی اماں مبارک آنکھ کھلی میرے بھائی کی ہاتھوں پہ اُس کو لیکے چلے شاہِ کربلا اور ساتھ ساتھ گود کو کھولے ہوئے قضا لکھا ہے دھوپ تیز تھی اور گرم تھی ہوا

اصغر پہ ماں نے ڈال دی اُجلی سی اک ردا

چادر نہ تھی وہ چہرہ پُر آب و تاب پر

ٹکڑا سفید ابر کا تھا آفتاب پر پہنچے قریبِ فوج تو تیورا کے رہ گئے

چاہا کریں سوال پہ شرما کے رہ گئے

غیرت سے رنگ اُڑ گیا تھرا کے رہ گئے

چادر پسر کے چہرے سے سرکا کے رہ گئے

آنکھیں جھکا کے بولے یہ ہم انکو لائے ہیں اصغر تمہارے پاس غرض لے کے آئے ہیں پھر ہونٹ بے زبان کے چومے جھکا کے سر روکر کہا جو کہنا تھا سو کہہ چکا پدر

باقی رہی نہ بات کوئی اے مرے پسر

سوکھی زبان تم بھی دکھا دو نکال کر پھیری زباں لبوں پہ جو اُس نورِ عین نے تھرا کے آسمان کو دیکھا حسین نے مولا فلک کو دیکھ رہے تھے کہ ناگہاں لی حرملہ نے شانے سے دو ٹانک کی کماں ترکش سے جبکہ کھینچ لیا تیرِ جاں ستاں

چھوڑا کماں سے تاک کے حلقومِ بے زباں

چُھٹتے ہی حلق بچے کا چھیدا جو تیر نے تھرا کے آسمان کو دیکھا صغیر نے کیا سن تھا تیر کھاتے ہی بچہ دہل گیا

سوکھے گلے سے خون کا دریا اُبل گیا

تڑپا جو شہ کے ہاتھوں پہ تو منکا ڈھل گیا

ٹوپی گری زمین پہ اور دم نکل گیا ننھی کلائیوں میں تشنج سے بل پڑے ہچکی جو آئی منھ سے انگوٹھے نکل پڑے منھ آسماں سے شہ نے پھرایا کہ کیا ہوا

دیکھا کہ پار حلق سے تیرِ جفا ہوا

بچہ تڑپ رہا ہے لہو میں بھرا ہوا اور ننھا ہاتھ زخم گلو پر دھرا ہوا

آنکھیں پھرائے دیتے ہیں تیور بدلتے ہیں

آگے تو دودھ اُگلے تھے اب خوں اُگلتے ہیں کھینچا گلے سے بچے کے آہستہ شہ نے تیر اور ہاتھوں پہ بلند کیا لاشۂ صغیر

ِگردن جھکا کے بولے کہ اے خالق قدیر مقبول ہو حسین کا یہ فدیۂ اخیر

ششماہا کوئی کشتۂ تیرِ ستم نہیں یہ بے زبان ناقۂ مصالح سے کم نہیں