Kanz e Aza

آج چہلم تمام ہوتا ہے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

آج چہلم تمام ہوتا ہے

دفن سب کا امام ہوتا ہے وحشتوں کا اب مقام ہوتا ہے

دور گردوں خیَام ہوتا ہے تنِ شہ آج سر سے ملتا ہے

عرشِ خالق دوبارہ ہلتا ہے کربلا میں ہے آج شیون و شین

دفن ہوتی ہے آج لاشِ حسین روتی کبرا ہے شہ کی نور العین

بانوۓ شاہ ہےبہت بے چین رو رو زینب دُوہائی دیتی ہے کروٹیں شہ کی لاش لیتی ہے

شِش جہت میں ہے شور وَاوَیلا

آتی ہے یہ ملائکہ کی صَدا

قید سے چھوٹ کر امام آیا

آج اک حشر پھر بپا ہوگا

چَلو اے قوم پیشوائی کو لاؤ زینب فلک ستائی کو

آگے آگے تھے جبرئیل امیں ان کے پیچھے ملائکہ غم گیں پھینک کر تاجِ سر بروۓ زمین

آئے بیمار کربلا کے قریب

حَا ملانِ الم کو لے آئے

قتل گہ میں حَرم کو لے آئے

آج سجاد کو غش آتے ہیں

غش سے فرصت جو ذرا پاتے ہیں

باپ کی لاش کو ہلاتے ہیں گھٹے زنجیروں کے جو دکھاتے ہیں

جب وہ بیمار دکھ سُناتا ہے لاشۂ شاہ کانپ جاتا ہے پہونچے جو عابد جو لاشۂ شہ پر

بولے بصد ملال رو رو کر کچھ خبر آپ کو ہے اے سَرور رنج کیا کیا ہوئے ہیں بندہ پر

آپ کے بعد ہم اسیر ہوئے

طوق آہن میں دستگیر ہوئے لے گئے ہم کو بیڑیاں پہنا اور گردن میں طوق بھی ڈالا

آپ سوتے رہے یہاں بابا لی خبر بھی نہ میری کچھ اصلا

دشمنِ دیں زبس ستاتے تھے تازیا نے مجھے لگاتے تھے

سُن کے اہل حرم بھی شہ کی صدا روۓ ایسا کہ ہوش بھی نہ رہا پھر تو زینب نے شاہ سے یہ کہا

بھائی آئی ہے یہ بہن دُکھیا

ساتھ اہل حرم کو لائی ہوں پر سکینہ کو کھو کے آئی ہوں

بولی زینب کے اے شہیدِ امام

آئی ہوں طے میں کر کے راہ شام اب یہاں سے نہ جاؤں گی اک گام

آپ کی قبر پر رہوں گی مدام اسی بیشہ میں جَان کھوؤں گی

عمر بھر آپ کو میں روؤں گی

بھائی شرمندہ ہوں میں صغرا سے مُنہ وطن میں دکھاؤں کیا جَا کے نہیں ممکن ہے اب یہ زینب سے

آپ کو بَن میں چھوڑ کر جائے

قبر اصغر کی اب بناؤں گی

عمر بھر بیٹھی خاک اُڑاؤں گی

سُن کے لاشہ تڑپ گیا شہ کا

آئی حلق بریدہ سے یہ صدا اے بہن دخترِ علی ہدا کہوں پیغَام کیا میں صغرا کا مجھ کو سجاد سے ندامت ہے ہجر صغرا کا ایک قیامت ہے لاشِ اکبر پہ زینب دلگیر

آئی جس دم بحالتِ تغییر کہتی تھی ہائے میرے بدرِ منیر

خاک میں تیری مل گئی تصویر

سو چکے بس اُٹھو اُٹھو بیٹا

آئے سجاد ہیں ملو بیٹا تم سے چھپ کر ہوئے یہ مجھ پہ ستم

قید کر شام لے گئے اظلم

سرِ دربار بے رِدا تھے ہم

بال کھولے ہیں اپنے رو رو کر مجھ پہ کیا کیا سِتم ہوئے بابا منہ کا دیکھو مرے ورم بابا

عید کے روز تم نے جو سَرور تھے پہنائے جو کان میں گوہر لے لیا اس کو شمرِ بد گوہر اور طمانچے بھی مارے ہیں منہ پر اپنا دُکھ میں سنانے آئی ہوں نیل منہ کے دکھانے آئی ہوں