Kanz e Aza

یہ ذکر ابھی تھا کہ صدا رونے کی آئی

A marsiya. Lyrics in Urdu.

دوزخ سے جب آزاد کیا حُر کو خدا نے کھلوا دیئے فردوس کے در عقدہ کُشا نے

ِزانو پہ رکھا سر کو امامِ دوسرا نے اعلیٰ کیا ادنیٰ کو بزرگوں کی دعا نے

سب جسکے طلبگار تھے جنت میں وہ در تھا

حوران جناں گرد تھیں اور بیچ میں حُر تھا


جب دے چکے سب غیر عزیزوں کی طرح سر

بیجاں ہوئے دو ایلچیٔ شاہ کے دلبر مرنے پہ کمر باندھتے تھے قاسمِ بے پر کہتی تھی جھکائے ہوئے سر شاہ کی خواہر ہے سخت عجب دونوں کی دانائی سے مجھکو ان بیٹوں نے محجوب کیا بھائی سے مجھکو یہ ذکر ابھی تھا کہ صدا رونے کی آئی


دروازے سے اکبر نے یہ آواز سنائی لوٹی گئی ہے ہے پھوپی اماں کی کمائی مارے گئے دو ساتھ کے کھیلے ہوئے بھائی روتے ہوئے عباس بھی ہمراہ گئے ہیں

خود لاشے اُٹھانے کیلئے شاہ گئے ہیں

فضہ کی صدا آئی کے ائے پیٹنے والو

سب مل کے ارے میری خوزادی کو سنبھالو روتی ہیں کدھر بانوۓ عالم کو بلالو لوٹا گیا گھر خاکِ عزا بالوں پہ ڈالو مقتل سے حسین ابنِ علی لاتے ہیں لاشے


سیدانیوں ڈیوڑھی پہ چلو آتے ہیں لاشے لاشوں کو شہ دیں صفِ ماتم پہ جو لائے

سب اہلِ حرم پیٹتے روتے ہوئے آئے


زینب نے نہ فریاد کی نے اشک بہائے

بیٹھی رہی سر زانوئے اقدس پہ جھکائے

لب خشک تھے منھ فق تھا مژہ اشکوں سے تر تھی

نے اپنی نہ بھائی کی نہ لاشوں کی خبر تھی


بانو نے رکھے زانوئے زینب پہ سر اُنکے

جو بی بیاں تھیں آگئے منہ کو جگر اُنکے


زینب نے جو کی جھک کے رُخوں پر نظر اُنکے

دِکھلائی دیئے چاند سے منہ خوں میں تر انکے رُخسار بھی مجروح تھے اَبرو بھی کٹے تھے

شانے بھی جدا چاند سے بازو بھی کٹے تھے منہ چھاتیوں پہ رکھ کے وہ ناشاد پکاری

آرام میں ہو یا ہے غشی پیاس سے طاری ہوتا ہے بیاں شوکت و ہمت کا تمہاری تسلیم کرو قبلۂ کونین کو واری


ٔسمجھی میں کہ باعث ہے یہ بیداریٔ شب کا پیارو یہ طریقہ نہیں اربابِ ادب کا تعریف امامِ دوسرا کرتے ہیں اُٹھو

عباسِ علمدار ثنا کرتے ہیں اُٹھو ہمشکلِ نبی مدحِ وغا کرتے ہیں اُٹھو


سب لوگ نہ اُٹھنے کا گلہ کرتے ہیں اُٹھو

آقا سے مصیبت میں جُدا ہو نہیں جاتے

صدقے گئی یوں جنگ کے دن سو نہیں جاتے تم تو کبھی یوں رات کو غافل نہیں سوئے پانی نہیں کس طرح یہ ماں چہروں کو دھوئے

اب تم نہ ملو گے جو کوئی جان بھی کھوئے


قسمت میں یہ لکھا تھا کہ مادر تمہیں روئے

سر دے کے مرے حق سے ادا ہو کے پھرے ہو


سمجھی میں کہ ماموں پہ فدا ہو کے پھرے ہو پیارو تم اکیلے کبھی نکلے نہیں گھر سے رستے سے نہ واقف نہ صعوباتِ سفر سے

راہیں وہ کہ خالی نہیں جو خوف و خطر سے

جو خاصۂ باری ہیں وہ تھراتے ہیں ڈر سے اِس خوف سے راتوں کو نہ سوتے تھے محمد

جب موت کا ذکر آتا تھا روتے تھے محمد ہے ہے وہی رستہ تمہیں در پیش ہے پیارو تم مرد ہو جرار ہو ہمت کو نہ ہارو


اب آنکھوں سے چھپ جاؤ گے ائے عرش کے تارو

بچھو مجھے منزل کا پتہ دیکے سدھارو ویرانے میں یا گلشنِ ہستی میں رہو گے تم آج کی شب کونسی بستی میں رہو گے


ِاب زیست سے اماں کا بھی دل سیر ہے پیارو

جیتی ہوں میں قِسمت کا مری پھیر ہے پیارو کیا جانے مرِی موت میں کیا دیر ہے پیارو تم مر گۓ دنیا مجھے اندھیر ہے پیارو ہے کون سی دولت جِسے کھونے کو رہی ہوں معلوم نہیں اب کِسے رونے کو رہی ہوں تاریکی میں واری تمہیں نیند آئیگی کیونکر

شب ہوگی تو بچوں کو یہ ماں پائیگی کیونکر مادر دلِ بیتاب کو سمجھا ئیگی کیونکر واں تک میرے رونے کی صدا جائیگی کیونکر نکلوں جو تجسس میں تو بیجا نہیں واری ماں ہوں میرا پتھر کا کلیجہ نہیں واری مقتل میں قیام آج کہاں ہوگا بتادو ماں صدقے مقام آج کہاں ہوگا بتا دو

دن تم کو تمام آج کہاں ہوگا بتادو


بستر سرِ شام آج کہاں ہوگا بتادو ہموار زمیں شب کے بچھونے کو ملےگی کیسی ہے جگہ جو تمھیں سونے کو ملےگی ہمراہ نہ تکیئے ہیں نہ راحت کا بچھونا

دو بھائی ہو تم ایک جگہ رات کو سونا معلوم ہے چھوٹے کا تمہیں چونک کے رونا


صدقے گئی غافل مرے بچے سے نہ ہونا

بے ماں کے سحر رونے میں ہو جاتی تھی اُس کو

پہلو مرا ملتا تھا تو نیند آتی تھی اُس کو

ٹکڑے تھا کلیجہ یہ بیاں درد کے سن کر اک حشر تھا سیدانیاں جب پیٹتی تھی سر


بانو نے کہا قبلۂ کونین سے اُٹھ کر مر جائیگی ماں لاشوں کو لے جائیے باہر

فرزندوں کا غم خالقِ عالم نہ دکھائے اللّہ کسی ماں کو یہ ماتم نہ دکھائے