پدر کی موت ہے مرنا جوان بیٹے کا
سفر جہان سے کرنا جوان بیٹے کا
غضب ہے خون میں بھرنا جوان بیٹے کا
ستم ہے جی سے گزرنا جوان بیٹے کا
شباب تھا کے شہ مشرقین سے چھوٹے محبو پیٹو کے اکبر حسین سے چھوٹے
خدا پدر کو نہ دِکھلائے مرگِ راحتِ جاں کلیجہ زخمی ہو جب دل کو پھر قرار کہاں اُدھر تو سینۂ اکبر سے گذری نوکِ سناں لہو اِدھر ہوا چشمِ امامِ دیں سے رواں تڑپ کے جانبِ گردوں نگاہ کی شہ نے
زمین ہل گئی اک ایسی آہ کی شہ نے پکارتے ہوئے دوڑے میرے شہید پسر میرے جواں میرے مہ رو میرے سعید پسر میرے حسیں میرے یوسف میرے رشید پسر
قریب ہو کہیں میداں سے یا بعید پسر پدر پہ آج نئی واردات ہے بیٹا
خبر نہیں مجھے دن ہے کہ رات ہے بیٹا کدھر گئے میرے گل پیرہن علی اکبر میرے خلیق میرے کم سخن علی اکبر
جوانا مرگ غریب الوطن علی اکبر اُجاڑ کر گئے میرا چمن علی اکبر
بُلا کے گھر سے یہاں اشقیا نے لوٹ لیا
دہائی ہے کہ مجھے کربلا نے لوٹ لیا پکارتے تھے کہ اے شیر پھر پکار مجھے نہیں بتانے کے لاشہ یہ نابکار مجھے ترے فراق میں ہے زیست ناگوار مجھے
صدا سنا دے میں صدقے پھر ایکبار مجھے گلے لگالو کہ سینہ ہمارا جلتا ہے کلیجہ منہ سے کوئی دم میں اب نکلتا ہے پکاری ڈیوڑھی سے بانو پسر ملا کہ نہیں
بتاؤ مرہمِ زخمِ جگر ملا کہ نہیں
ستم کے اَبر میں میرا قمر ملا کہ نہیں
علی کے لال وہ عالی گہر ملا کہ نہیں
شتاب لاؤ میرے منتوں کے پالے کو تمہیں سے لونگی میں اپنے مرادوں والے کو یہ ذکر تھا کہ صدا آئی دور سے ناگاہ
جنابِ قبلہ و کعبہ اب آئیے اللّہ
حضور حال سے بیٹے کے کیا نہیں آگاہ
زبان اینٹھ گئی ہے غلام کی یا شاہ اُکھڑ رہا ہے دم اب موت جان لیتی ہے پکارنے کی بھی طاقت جواب دیتی ہے
صدا یہ سنتے ہی سلطانِ بحرو بر دوڑے یہ دردِ دل تھا کہ تھامے ہوئے جگر دوڑے کبھی تو فوج پہ مانندِ شیر نر دوڑے کبھی اُدھر گئے روتے کبھی اِدھر دوڑے لُٹی ہوئی وہ کمائی بصد تلاش ملی
زمیں پہ خون میں غلطاں پسر کی لاش ملی
عجیب حالتِ فرزندِ نوجواں دیکھی
عطش سے ہونٹوں پہ نکلی ہوئ زباں دیکھی
قمر سے چہرہ پہ زردی لبوں پہ جاں دیکھی کلیجہ پھٹ گیا سینے میں جب سناں دیکھی پدر کے سامنے بیٹے کا دم اُکھڑتا تھا
حسین دیکھتے تھے اور گھر اُجڑتا تھا
قریبِ لاشِ پسر بیٹھ کر یہ فرمائے
زمینِ گرم سے بیٹا اُٹھو کہ ہم آئے
صدا یہ سنتے ہی اکبر نے ہاتھ پھیلائے
لپٹ کے لاش سے شہ لب پہ یہ سخن لائے گلے لگا لو کہ محمد کا میں نواسہ ہوں
زباں دکھا کے کہا یا حسین پیاسا ہوں
یہ کہہ کے شاہ سے کھینچی غریب نے اک آہ
جگر میں ہونے لگا درد آہ کے ہمراہ
عجیب یاس کی نظروں سے دیکھ کر رخِ شاہ کہا کہ اشھد ان لا اله اللّه
بس اور کہہ نہ سکے کچھ یہ حال غیر ہوا
سوئے بہشت گئے خاتمہ بخیر ہوا