ِرن سے جب کھا کے سناں اکبر ذیشاں آئے ماں کی خدمت میں کوئی آن کے مہماں آئے گھر میں لاشے کو لئے شاہِ شہیداں آئے نوحہ گر خاک بسر چاک گریباں آئے
دی صدا قتل ہوئے یوسفِ ثانی بانو مل گئی خاک میں اکبر کی جوانی بانو
دیکھ لے آخری دیدار پسر مرتا ہے
سامنے آنکھوں کے یہ نورِ نظر مرتا ہے اب کوئی دم میں میرا رشکِ قمر مرتا ہے منھ سے باہر ہے زباں تشنہ جگر مرتا ہے
دم ہے سینے میں رُکا زخموں سے خوں جاری ہے
شہر بانو ترا گھر لٹنے کی تیاری ہے پہنچی خیمہ میں جو حضرت کی یہ پُردرد صدا مضطرب ہوگئے ناموسِ رسولِ دوسرا کہا چلا کے سکینہ کے ہے ہے بھیا
فضہ دوڑی سوئے در پھینک کے سر پر سے ردا پیٹتی زینبِ بے پر نکل آئی باہر
بانو گھبرا کے کھلے سر نکل آئی باہر
شہ کے کاندھے پہ جو دیکھا علی اکبر کو نڈھال
ہاتھ پھیلا کے یہ چلائی کے ہے ہے میرے لال کیا غضب ہو گیا ائے بادِشہ نیک خصال راس آیا نہ مرے بچے کو اٹھارواں سال
ٹکڑے تیغوں سے بدن ہو گیا سارا ہے ہے
کون تھا جس نے میرے شیر کو مارا ہے ہے رو کے بانو سے یہ فرمانے لگے سرور دیں
ِسر نہ پیٹو ابھی زندہ ہے میرا ماہ جبیں
سانس آتی ہے پہ ہر دم ہے دمِ باز پسیں
کوچ اِن کا بھی ہے اور ہم بھی ہے مرنے کے قریں
سب چھٹے اَب نہ رہا کوئی ہمارا بانو اس جواں بیٹے کے غم نے ہمیں مارا بانو
سُن کے مادر کی صدا کھول دیئے دیدۂ نم
ہاتھ اُٹھا کر کہا روؤ نہ میرے سر کی قسم پاس آکر ہمیں چھاتی سے لگا لو اِس دم رن سے آئے ہیں تمھاری ہی ملاقات کو ہم
پھر یہ گھر شاہ کے اقبال سے دیکھا ہم نے پر تمہیں آکے عجب حال سے دیکھا ہم نے
بال کیوں بکھرے ہیں کیوں پھینکدی سر پر سے ردا نیل کیوں سینے پہ ہے کیوں ہے گریبان پھٹا
خاک کیوں منھ پہ ملی ہو یہ پسر تم پہ فدا
شاہ دنیا میں سلامت رہیں یہ کیا یہ کیا لٹ گئی یہ نہ سخن منھ سے نکالو اماں میں تو جیتا ہوں کلیجہ کو سنبھالو اماں
زخمی ہونیکی مرے کس نے خبر پہونچائی
جھوٹ ہے میں نے تو ہرگز نہیں برچھی کھائی
آپ تک بیٹے کو تقدیر سلامت لائی
دیکھے حضرت کے قدم تن میں مرے جاں آئی مرگ سے پہلے ہو ماتم یہ زبوں ہے اماں میرے کپڑوں پہ تو عباس کا خوں ہے اماں
بولی بانو کہ جو کہتے ہو خدا یونہی کرے اے مرے لال یہ ماں تیری بلا لیکے مرے
لاؤ دھو ڈالوں میں جو خون میں کپڑے ہیں بھرے
چاند سے ہاتھ ہیں پھر کس لئے چھاتی پہ دھرے مجھ کو معلوم ہوا خلق سے جاتے ہو تم میرے رونے کیلئے زخم چھپاتے ہو تم
بانو صدمے سے نہ مر جائے یہ ڈر ہے بیٹا
سب ترے دل کی مرے دل کو خبر ہے بیٹا ہائے سینہ یہ ترا خون میں تر ہے بیٹا
پھر یہ کیا ہے جو نہیں زخمِ جگر ہے بیٹا
سَنسناتا ہے جگر جان چلی جاتی ہے
اِس لہو سے تو مرے دودھ کی بو آتی ہے
آرزو ہے کہ پھلے پھولے میرا نخلِ مراد تم دلھن بیاہ کے لاؤ میرا گھر ہو آباد
دیکھ لوں آنکھوں سے اپنی میں تمھاری اولاد
پھر میں دنیا سے جو گذروں تو رہے روح بھی شاد
دادی کہلاؤنگی رُتبہ میرا برتر ہوگا تیرا فرزند بھی ہمشکلِ پیمبر ہوگا
آہ کی سُن کے یہ اکبر نے بصد رنج و ملال
درد چھاتی میں اُٹھا غیر ہوا اور بھی حال
دل میں یہ سونچ کے رونے لگا وہ نیک خصال
ہم سفر کرتے ہیں اماں کو ہے شادی کا خیال
بر میں ہوئیگا کفن خاک پہ چہرہ ہوگا نہ دلھن ہوگی نہ اولاد نہ سہرا ہوگا