Kanz e Aza

مسافروں کی مدینے میں جب رسید آئی

A marsiya. Lyrics in Urdu.

مسافروں کی مدینے میں جب رسید آئی کہ وعدہ گاہ میں فوجِ شہ سعید آئی رسید آتے ہی صغرا کے گھر میں عید آئی تپِ کہن گئی اور طاقتِ جدید آئی ملال دور ہوا عیش کے قرینے سے

بخار نبض سے غم دل سے درد سینے سے

غرض کہ حضرتِ اُم البنیں کو بلوایا وہ آئیں تو سرِ تسلیم اُٹھ کے نیوڑایا

وہ ہنس کے بولی کہ کیوں یاد مجھ کو فرمایا

کہا مریض نے خوش ہو کہ شہ کا خط آیا ہمارے دل کو فقط نامہ بر نے چین دیا محمدِ حنفی کو خطِ حسین دیا یہ کہہ کے مادرِ عباس کو لیا ہمراہ محمدِ حنفی کے گھر آئی دُخترِ شاہ وہ منتظر تھے لئے نامۂ شہ زیجاہ

سلام کرتے ہی کہنے لگی یہ نالہ و آہ لو اب سناؤ امامِ غریب کا نامہ پڑھو مریض کے آگے طبیب کا نامہ محمدِ حنفی نے کیا لفافہ کو وا نکالا شُقۂ پُر نور سید الشہدا پڑھا جو نامہ میں القاب اپنا روکے کہا

حسین تیرے کرم پر میں لاکھ جاں سے فدا کہاں میں تیرا برادر بجاں برابر ہوں تو جانِ ختم رسل ہے میں ابنِ حیدر ہوں اَخی کا لفظ جو القاب میں مرے لکھا

ٰفقط یہ بندہ نوازی ہے یا امامِ ہدی ترا غلام ہے عباس میں غلام اس کا ہزار حیف قدم سے حضور کے ہوں جدا لیا جو نامِ جدائی تو آنسو بہنے لگے

سلام پڑھ کے علیک السلام کہنے لگے

ٔکہا یہ فاطمہ صغرا سے تب بہ دیده تر

لکھا ہے باپ نے تم کو کہ ائے مری دختر

دعا کے بعد ہو معلوم میری نورِ نظر کوئی گھڑی نہیں غافل تری طرف سے پدر

قلق ہے صدمہ ہے رنج و ملال ہے صغرا

عدو کے نرغہ میں زہرا کا لال ہے صغرا

دفورِ فکر سے صغرا جو سخت گھبرائی

چچا کا اپنے قلمدان وہ اُٹھا لائی اور التماس کیا ائے حسین کے بھائی مجھے تو ہے نہ توانائی اور نہ بینائی مری طرف سے وہ القاب لکھو بابا کو کنیزیں لکھتی ہیں جسطرح اپنے آقا کو

غریب پرور و عالم نواز و خلق پناه ملک سپاه فلک بارگاہِ شاہنشاہ امام بیکس و مظلوم و بے دیار و تباه

خلیلِ کعبۂ دیں یوسفِ رسول اللّہ اَجل رسیدوں کے عیسیٰ غریبوں کے والی

حسین ابنِ علی مُد ظلہ العالی پس از شروطِ قدمبوسی بعد تسلیمات لکھو زبانیٔ صغریٰ کہ ائے شہ خوش ذات

میں تم سے چھوٹ کے اب جاں کنی میں ہوں دن رات نہ آرزوئے شفا ہے نہ اب اُمید حیات نہیں کسی کو توقع کہ اب ٹہر جاؤں تم آکے سورۂ یٰسین پڑھو تو مرجاؤں رجب کی تیسری کو تم نے گھر کیا ویراں تمہارے بعد ہوئیں تین عیدیں بابا جاں

شبِ برات ہوئی دوسرے مہینے عیاں

بروحِ حمزہ نہ تھی فاتحہ کی تاب و تواں تمام آہ تڑپتے تڑپتے رات ہوئی ہمارے گھر میں نہ عیدِ شبِ برات ہوئی وہ عید تو گئی دن عیدِ فطر کا آیا گھر آن کر مجھے ہمجولیوں نے رُلوایا کسی نے گہنا کسی نے لباس دکھلایا

کوئی یہ بولی کہ عیدی میں ہم نے یہ پایا

ہر ایک خوش تھا مگر میرے لب پہ نالے تھے

سفر میں سب میری عیدی کے دینے والے تھے نظر میں پھرتا ہے عیدِ گذشتہ کا آنا وہ عیدگاہ میں اکبر کا دھوم سے جانا

بہن کے واسطے میوے خرید کر لانا وہ اماں بانو کا ہر دم گلے سے لپٹانا

بہ جبر اب تو بغل گیر جس سے ہوتی ہوں

بہن سکینہ کو میں یاد کر کے روتی ہوں