Kanz e Aza

محشر کی صبح آج نمایاں ہے شام میں

A marsiya. Lyrics in Urdu.

محشر کی صبح آج نمایاں ہے شام میں کنبہ شفیعِ حشر کا ہے اِژدھام میں

سر ننگے روحِ فاطمہ ہے اہتمام میں

خاصانِ ذوالجلال ہیں بلوائے عام میں

جبرئیل کی خوزادیاں تشریف لائی ہیں مشکل کشا کی بیٹیاں بندی میں آئی ہیں ہیں بیچ میں کھلے ہوئے آلِ عبا کے سر

نیزوں پہ ان کے گرد ہیں فوجِ خدا کے سر

بچوں کے سر بزرگوں کے سر اقربا کے سر روتے ہیں وارثوں کے سروں کو دکھاکے سر

سر رکھ کے زانووں پہ جو وارث کو روتے ہیں

ظالم سروں میں نیزوں کی نوکیں چبھوتے ہیں نیزے پہ حرملہ کے چمکتا ہے اک ہلال

بکھرے ہوئے ہیں چاند سے منھ پر جھنڈولے بال اولاد والے کہتے ہیں اۓ ربِ ذوالجلال

اس بے زباں کے خون کا کس نے لیا وبال گردش میں ہائے ہائے یہ کس کا ستارہ ہے لے کر بلائیں کہتی تھی بانو ہمارا ہے ناگہ ہوا یزید کا دروازہ آشکار

حاضر نقیب و حاجب و دربان و چوبدار تیغیںں علم کئے ہوئے جلاد و نابکار مجرائی بے حساب تماشائی بے شمار ایوان میں بھی رقص کا ساماں تمام تھا پر اِنتظارِ عترتِ خیر الانام تھا

بولے سب ایک بار وہ آئے گناہ گار

آئے قصور وار وہ آئے گناہ گار

جلادو ہوشیار وہ آئے گناہ گار وہ آئے بے دیار وہ آئے گناہ گار

جب سے کہ آسمان خدا نے بنائے ہیں

آلِ رسول آج ہی بندی میں آئے ہیں روکا عمر نے بڑھ کے علم کو سپاہ کو مُجرا پَرا جما کے کیا بارگاہ کو اور ہنس کے دیکھا آلِ رسالت پناہ کو

آواز دی نبیرهٔ شیرِ اِلہ کو ہاں ہاں مہار روکنا اونٹوں کا تھا منا اب ہے یزید کے درِ دولت کا سامنا پہونچے مراد کو سفر اپنا تمام ہے اُترو اسیر و اُترو ادب کا مقام ہے

آگے تو آستانۂ سلطانِ شام ہے

دیکھو تو کیا جلال ہے کیا احتشام ہے

اِس کی ولا میں عرش کو ہم نے ہلا دیا گھر پنجتن کا خاک میں بالکل ملا دیا

سنتا یہ تھا کہ سب کے جگر پر چھری چلی

اونٹوں سے اُتریں بی بیاں کہہ کہہ کے یا علی

آنکھیں پھرا کے رہ گئی بانو کی لاڈلی روحِ حسین کو ہوئی جنت میں بے کلی

طاقت بدن کی گھٹ گئی اور ضعف بڑھ گیا

اُترے جو بے سہارے تو دم سب کا چڑھ گیا

سینہ میں دم ابھی نہ سمائے تھے ہے غضب

جو آئے ریسماں لئے ہاتھوں میں بے ادب گھبرا کے پوچھا بیوؤں نے تجویز کیا ہے اب

بولا عمر کہ مجلسِ حاکم میں ہے طلب منظور ہے کہ روحِ علی پھر ملول ہو مجمع میں رو بکارئیے آلِ رسول ہو مظلومیت سے روکے یہ مظلوموں نے کہا

حاکم کی یہ خوشی ہے تو پھر عذر ہم کو کیا

بازار میں تو پھر چکے بے مقنع و ردا

آساں کرے گا مشکلِ دربار بھی خدا

حاضر ہیں لے چلو ہمیں گمراہو لے چلو

سر پر نہیں حسین جہاں چاہو لے چلو کچھ اب بھی اوڑھنے کیلئے دوگے یا نہیں

حاکم کا سامنا ہو سروں پر رِدا نہیں لائے ہو اپنے شہر میں یہ بھی حیا نہیں کیسے عرب ہو تم کو حمیت ذرا نہیں

سیدانیوں کی کچھ تو مدارات چاہئے

چادر بجائے ہد یہ و سوغات چاہئے وہ بولے اب قبول کوئی اِلتجا نہیں

سب سے حیا بے پر ہمیں تم سے حیا نہیں

حاکم کے دشمنوں پر ترحم روا نہیں مجرم کو احتیاجِ لباس و ردا نہیں

آلودہ وارثوں کے لہو سے جبیں تو ہے

چہروں پہ اور خاک لگا لو زمیں تو ہے

بیویں پکاریں سچ ہے حقیقت میں ہے تو ہیں پر اپنا منھ خاک کے قابل بھی اب نہیں وہ وقت ہے کہ ہم سے کنارہ کرئے زمیں پیوندِ خاک کیوں نہ ہوئے پیشِ شاہِ دیں منظور ہے یہی کہ سروں پر روانہ ہو

سر ننگے ہی چلیں گے ہم اچھا خفا نہ ہو پر اتنا ٹہرو وارثوں کے سر سے پوچھ لیں

شاہِ امم کے فرقِ منور سے پوچھ لیں

دربار جانے کو علی اکبر سے پوچھ لیں

عباس ابنِ حیدرِ صفدر سے پوچھ لیں مردہ نہ سمجھو زندہ یہ حیدر کے پیارے ہیں مختار ہم نہیں ہیں یہ مالک ہمارے ہیں نیزوں پہ نصب تھے جو شہیدوں کے سر تمام

زینب نے بڑھ کے بھائی کے سر کو کیا سلام

چلائی کیوں ذبیحِ خدا شاہِ تشنہ کام مرضی ہے کیا حضور کی کہتے ہیں کیا امام

دربار مٹ گیا ترا خوں رن میں بہہ گیا میرے لئے یزید کا دربار رہ گیا نام حسین لے کے جو بچے دہلتے ہیں

سجاد سر جھکائے ہوئے ہاتھ ملتے ہیں

بولو حسین بولو کہ اب دم نکلتے ہیں

آئی ندا کہ تم بھی چلو ہم بھی چلتے ہیں اس دم جو سر کھلے ہوئے دربار جاؤ گی اُمت کے بخشوانے کو محشر میں آؤ گی