Kanz e Aza

قاسم جو ہم شبیہہِ جنابِ اَمیر تھا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

قاسم جو ہم شبیہہِ جنابِ اَمیر تھا اِس وجہہ سے وہ غیرتِ مَہرِ مُنیر تھا اور عاشقِ جمالِ شۂ بے نظیر تھا پروانۂ چراغِ رسولِ قدیر تھا اکبر سے کہتا تھا کے چچا تو امام ہیں ائے بھائی جان ہم تو تمھارے غلام ہیں

یہ کہتے تھے کہ تم میرے دادا کی شان ہو

دل ہو جگر ہو آنکھ ہو بھائی جان ہو ائے بھائی جان کیا تری خوبی بیان ہو

حضرت حسن کی طرح سے شیریں زبان ہو


پھر پیار سے وہ ہاتھوں کو گردن میں ڈال کے کہتے تھے قتل ہونگے ہم اٹھارہ سال کے اتنے میں فوجِ ظلم سے تیرِ جفا چلے اور یاں سے پیشوائی کو اہلِ وفا چلے

آئے خدا کی سمت سے سوئے خدا چلے کہتے تھے شاہ زور مقدر سے کیا چلے


قاسم رہے اور اکبر و عباس رہ گئے

ستر دو تن میں تین جواں پاس رہ گئے اِس غم سے جو حُسین کی حالت ہوئی تباہ تب ہاتھ پکڑے خیمے میں قاسم کو لائے شاہ

زینب سے پھر یہ بولے امامِ فلک پناہ

در پیش ہم کو آج ہے دو بیکسوں کا بیاہ تقریب سوگواروں میں دولھا دلھن کی ہے


زینب اُٹھو اُٹھو یہ وصیت حسن کی ہے ابنِ حسن کو لا کے لباسِ حسن پنہاؤ

قاسم کی ماں کو مادرِ کبرا کو جلد لاؤ وہ بولی جان بوجھ کے بھیا نہ یہ سناؤ اِس کام کیلئے تو کسی اور کو بلاؤ


ماتم کے گھر سے کوئی بھی جاتا ہے بیاہ میں

بیٹوں مویٔ کو کوئی بُلاتا ہے بیاہ میں

جن ہاتھوں سے کہ بیٹوں کے لاشے اُٹھاؤں میں اُن ہاتھوں سے بھتیجے کو دولھا بناؤں میں

فرشِ عزا جو یاں پئے ماتم بچھاؤں میں کبرا کو واں لباسِ عروسی پنہاؤں میں


کیونکر بھلا یہ اُس سے ہو جو خیر خواہ ہو میری تو یہ دعا ہے مبارک یہ بیاہ ہو یادش بخیر فاطمہ صغرا نہیں یہاں رُخصت کے وقت کہتی تھی مجھ سے وہ ناتواں

قاسم کا بیاہ ہوئے سفر میں جو ناگہاں تم یاد کر کے مجھ کو بلا لیجیو وہاں افسوس کی جگہ ہے کوئی نامہ بر نہیں


قاسم کا بیاہ ہوتا ہے اُسکو خبر نہیں

شہ نے کہا بہن نہ تردد کرو ذرا ماتم کا اپنے بیٹوں کے ہاں عذر ہے بجا یہ عقد بھی ہے فدیۂ سبطِ رسول کا

شادی کُجا اور آلِ رسولِ خدا کجا

جائیگا نامراد یہ دولھا جہان سے تا حشر شادی اُٹھ گئی اس خاندان سے


کہتی تھی یوں پھوپی سے سکینہ کہ کیا ہے غم لو بھائی دولھا بنتے ہیں اب نیک لینگے ہم

سامانِ عقد جمع پریشاں مگر حرم


قاسم کی ماں پکاری فدا ائے شہ اُمم لونڈی ہوں آج سے میں شہ خوشخصال کی

شادی حُسین کرتے ہیں بیوہ کے لال کی

اِس گھر میں اب نہ ہوئیگا ایسا بھی کوئی بیاہ

اب تم ہو قید خانہ ہے اور ظلم کی سپاہ


زینب پکاری خیر جو فرمائیں مجھکو شاہ

شاہانہ پیرہن بھی تو گھر میں نہیں ہے آہ


شہ رو کے بولے آپ تو اہلِ شعور ہو

خلعت اگر نہو پہ کفن اک ضرور ہو

بن ماں کی بیٹی کا بھی کوئی یوں کرے نہ بیاہ

یہ کون دن ہے بیاہ کا سمجھو تو دل میں آہ پانی کا قحط کھانے کا دکھ نرغۂ سپاہ مہماں جُدا عزیزوں کے مرنے سے ہے تباہ


فریاد ایک طرف ہے کہیں شورِ آہ ہے

قدرت خدا کی یہ میری بیٹی کا بیاہ ہے