زخمی جو رن میں فاطمہ کا گلبدن ہوا اور پُرزے پُرزے تن میں لباسِ کُہن ہوا
غش پشتِ ذوالجناح پہ شاہِ زمن ہوا
دستِ الم سے چاک نبی کا کفن ہوا
زخموں کے منھ سے خون کے دریا اُبل پڑے
سر ننگے قبر سے شۂ مرداں نکل پڑے مظلوم کہتا جاتا تھا میں بے گناہ ہوں مارو نہ مجھ کو سبطِ رسالت پناہ ہوں تم لوگوں کا خدا کی قسم خیر خواہ ہوں اِس قول پر خدا کو میں رکھتا گواہ ہوں کچھ رحم آتا تھا نہ کسی نابکار کو
شمشیریں مارتے تھے غریب الدیار کو نیزہ لگا جو سینہ پہ تھرا کے رہ گئے
بیٹھا جو تیر ماتھے پہ تیورا کے رہ گئے گرنے لگے تو ہاتھوں کو لٹکا کے رہ گئے
شکرِ خدا زبان سے فرما کے رہ گئے اکبر نہ تھے جلو میں نہ عباس پاس تھے مظلوم بیچ میں تھا عدو آس پاس تھے
سینہ پہ بھالا رکھ کے گرایا حسین کو
جی بھر کے ظالموں نے ستایا حسین کو گِرنے پہ خاک تودہ بنایا حسین کو
ہے ظلم کی یہ حد کہ غش آیا حسین کو پر دیکھیو حواس شہنشاہِ نیک کے
سجدے میں سر جھکا دیا ہاتھوں کو ٹیک کے
آیا سرہانے تیغ بکف شمرِ روسیاه
بولا گلا کہ میں ہوں پیمبر کی بوسہ گاہ
دل نے کہا کہ سینہ ہے گنجینۂ اِلہٰ
بیٹھا یہ اس جگہ کہ انہیں جائے شرح آہ اس ظلم نو سے چرخِ کُہن کانپنے لگا ایسا حسین تڑپے کہ رن کانپنے لگا
ڈیوڑھی پہ آئے سب حرمِ بادشاہ دیں
بولی یہ پیٹ پیٹ کے سر زینبِ حزیں
آیا کوئی یہاں ہے مسلمان یا نہیں
بیٹھا ہے کس بزرگ کے سینہ پہ یہ لعیں اے ابنِ سعد فاطمہ کا کنبہ روتا ہے تو دیکھتا ہے بھائی مرا ذبح ہوتا ہے پانی وہ مانگتے ہیں پِلاتا نہیں کوئی اِس درد کو خیال میں لاتا نہیں کوئی کیا قہر ہے کہ پاس بھی آتا نہیں کوئی
سینے سے بے حیا کو اُٹھاتا نہیں کوئی اماں تمہاری پیٹتی ہیں بِلبِلاتی ہیں وہ بیٹے سے لپٹتی ہیں حوریں چھڑاتی ہیں
زینب نے بال کھول کے رن کو قدم بڑھائے
سیدانیاں بھی ساتھ چلیں گردنیں جھکائے
زینب پکاری ہائے مرے بھائی جان ہائے
بھیا پکار لو یہ بہن کس طرف کو آئے
بھیجوں کسے تلاش کو سب میرے مر گئے
آنکھیں بہن کی ڈھونڈھتی ہیں تم کدھر گئے ہر بی بی بال کھولے ہوئے خاک اُڑاتی تھی پر بانوئے حزیں کو کچھ بن نہ آتی تھی
جب سر کے کھولنے کیلئے ہاتھ اُٹھاتی تھی
کچھ دل میں اپنے سونچ کے وہ ٹہر جاتی تھی
چُھریاں تو پھر رہی تھیں دلِ پاش پاش پر اک آہ آسماں پہ تھی اک آہ لاش پر
آخر تڑپ کے حضرتِ زینب کو دی ندا
اک دن وہ تھا کہ خواب میں طالع ہوئے رسا
جنت سے آئی لونڈی کے گھر اشرف النسا
سر گوندھا اور پھولنے پھلنے کی دی دعا
عاشق جو پایا مجھ کو شۂ مشرقین کا
دِکھلا دیا جمال جنابِ حسین کا اک دن یہ ہے کہ سامنے ہے لاشۂ حسین
سر کھولنے کا وقت ہے ہنگامِ شور و شین مجھ کو ادب ہے فاطمہ زہرا کا فرضِ عین
یہ کام ہے تمہارا کہ ہو ان کی نورِ عین
یہ سر وہی ہے جب کہ میں بندی میں آئی تھی اپنی ردا علی ولی نے اُڑھائی تھی
زینب پکاری آؤ گلے سے لگاؤں میں
آؤ جبیں پہ خاک ملوں نتھ بڑھاؤں میں ماں نے دلہن بنایا تھا بیوہ بناؤں میں مانگو دعا زمین پھٹے اور سماؤں میں ہے ہے بچھڑ کے گور کنارے گئے حسین
جیتی رہی میں رونے کو مارے گئے حسین