Kanz e Aza

رو کے کہتی تھی فاطمہ زہرا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

رو کے کہتی تھی فاطمہ زہرا

سن لو روداد يا حبيبِ خدا

غم سے جلتا ہے اب جگر میرا کیا یہی اَجر ہے رسالت کا لب پہ اُمت کا ہے گِلا بابا

خوب پُرسہ مجھے ملا بابا

آپ کے بعد مجھ پہ ظلم ہوئے مجھکو اُمت نے ہیں دیئے صدمے وہ مصائب اُٹھائے ہیں میں نے

دن پر پڑتے تو رات ہو جاتے اچھا ہوتا جو میں گزر جاتی

آپ سے پہلے کاش مرجاتی

بے سبب میرے گھر پہ آئی بلا کیا تھا میرا قصور اے بابا لکڑیاں لے کے آگئے اعدا میرے دروازے کو جلا ڈالا

ختم جور و جفا ہوئی مجھ پر

ظلم کی اِنتہا ہوئی مجھ پر

سن سکو تو سنو مری روداد

ڈھائی اُمت نے مجھ پہ ہے بے داد رو رہا ہے مرا دل ناشاد ہائے کس سے کروں میں اب فریاد

آگ لے لے کے دشمن آئے ہیں

ظلم مجھ پر لعیں نے ڈھائے ہیں

جلتا دروازہ جب گرا مجھ پر کھڑی دیوار سے تھی میں لگ کر رحم کھایا نہ مجھ پہ بانیٔ شر پاؤں ملعون نے رکھا دَر پر مجھکو دروازے سے دبا ڈالا

آگ سے پیراہن جلا ڈالا

ضرب میرے شکم پر ایسی لگی

جسکی تکلیف بطن تک پہونچی پہلو ٹوٹا مرا جفا یہ ہوئی

دَر و دیوار سے میں دبتی رہی کوئی فریاد کو نہیں آیا کوئی امداد کو نہیں آیا

شدتِ ضرب سے ہوئی ایزا

درد میرے شکم میں ہونے لگا میں اِدھر تڑپی وہ اُدھر تڑپا مرگیا بطن میں مرا بچا کس سے فریاد میں کروں بولو اب میں کس طرح سے جیوں بولو میرے محسن کو ہائے واویلا

بے حیاؤں نے قتل کر ڈالا

بے سبب مجھ پہ ظلم ہے ڈھایا اب نہیں کوئی پوچھنے والا منہ کو اشکوں سے دھوتی رہتی ہوں اپنے محسن کو روتی رہتی ہوں میرا پُرسانِ حال کوئی نہیں

جینے کا اب سوال کوئی نہیں کرنے والا ملال کوئی نہیں

زخم کا اندمال کوئی نہیں

جسم رہ رہ کے سرد ہوتا ہے میرے پہلو میں درد ہوتا ہے

شدتِ درد کا اثر یہ ہوا

جسم سے ٹوٹا جان کا رشتا

جان لیوا تھا درد کا حملہ ہوئیں بے جان فاطمہ زہرا مجتبٰی کر کے بین رونے لگے پیٹ کر سر حسین رونے لگے