درود پڑھ کے وطن کو چلا حسین کا لال
قریب پہنچی مدینہ کے جب رسول کی آل
تو اپنے ہاتھوں پہ زینب نے رکھے سر کے بال کہا مدینہ سے کلثوم نے بہ رنج و ملال لٹا کے آئے ہیں زہرا کے سب گھرانے کو نہ کر قبول تو ہم بیکسوں کے آنے کو مدینہ ہم تیرۓ والی کو آئے ہیں کھو کر مدینہ گردنِ شبیر پر چلا خنجر مدینہ کوفہ میں سر ننگے ہم پھرئے در در مدینہ داغِ رسن ہے ہمارئے شانوں پر ہم آئے زندہ پہ زہرا کا نورِ عین نہیں مدینہ اکبر و قاسم نہیں حسین نہیں ہلی زمین مدینہ کی اُس گھڑی پیہم کیا بشیر کو سجاد نے طلب اُس دم گلے میں شالِ عزا ڈال دی بادیدهٔ نم
اور اُس کے ہاتھ میں رو کر دیا سیاہ علم کہا کہ جا نہیں گو اپنے منھ دکھانے کی مگر وطن میں خبر کردے میرے آنے کی
چلا بشیر یہ دیتا ہوا خبر ہر جا مگر محلّۂ ہاشم میں دیکھتا ہے کیا کہ اک مریضہ سرِ راہ ہے کھڑی تنہا
جو نام پوچھا تو رو رو کے بولی وہ صغرا
بشیر کہنے لگا کیوں تو شور و شین میں ہے کہا یہ حال میرا فرقت حسین میں ہے کھڑی ہوں منتظر اکبر کو دیکھوں کب آئے میں گھر سے نکلی ہوں شائد کہ قاصد آجائے
خدا کہیں مرے بچھڑوں کو خیر سے لائے کہ یہ مریضہ لبِ گور ہے شفا پائے کوئی پدر کی خبر لائے پاؤں پڑتی ہوں
جدا مسیح سے ہوں ایڑیاں رگڑتی ہوں
بشیر سمجھا یہ بنتِ حسین ہے صغرا
خموش رہ گیا صغرا کے منھ پہ کچھ نہ کہا پکاری فاطمہ گردن میں دیکھ شالِ عزا
تو بھائی لایا ہے کس کی سنانی مجھ کو سنا وہ بولا قاصدِ بیمارِ کربلا ہوں میں
سنانی قبرِ پیمبر پہ لے چلا ہوں میں
وہ بولی رو رو کے بھائی یہ کیا سناتا ہے وہ کون ہے جسے بیمار تو بتاتا ہے
سنانی کس کی ہے یہ مجھ کو ہول آتا ہے کہ مصطفٰے کی لحد سے تو کہنے جاتا ہے
عمامہ پھینک کے اُس نے کہا دھائی ہے تیرے حسین کی صغرا سنانی آئی ہے
زمیں پہ ہائے پدر کہہ کے گر پڑی صغرا
خبر یہ پھیلی تو ماتم ہر ایک گھر میں ہوا تمام عورتیں نکلی گھروں سے کرتی بکا
نبی کی قبر پہ جا کر بشیر نے یہ کہا
سفر سے لٹ کے اِدھر بھوکی پیاسیاں آئیں اُٹھو رسول تمھاری نواسیاں آئیں وہ آنکھیں کھول کے بولی کہ مر گئے بابا ادھر سے قافلۂ کربلا بھی آپہنچا
بہن حسین کی سر ننگے دیتی تھی یہ صدا
حسین جب سے موئے میں نے سر نہیں ڈھانکا نہ مردہ اور نہ تابوت اخی کا لائی ہوں مدینے والو میں بھائی کو کھو کے آئی ہوں مدینہ والو کہو اس بہن کی کیا تقدیر
جو دیکھے اپنے برادر کے حلق پہ شمشیر
عزیزو اس کی سزا کیا ہے کچھ کرو تقریر لہو میں غرق جو دیکھی حسین کی تصویر
بتاؤ کہتے ہیں سب کیا اس اماں جائی کو
جو اربعین تملک دے کفن نہ بھائی کو ابھی یہ کہتی تھی زینب بہ نالۂ جانکاہ کہ ایک شیشہ کو لے آئیں اُم سلمہ آہ
بھرا ہوا تھا لہو سے وہ شیشہ
سب واللّٰہ حرم نے منہ پہ ملا وہ لہو بحالِ تباہ
فغاں و آہ کے نعرے بلند ہونے لگے
بٹھا کے بیچ میں صغرا کو سب وہ رونے لگے
بشیر کہتا ہے واللّٰہ روضہ کانپ گیا لحد سے نالہ ہوا واحسین کا پیدا اِدھر زمیں پہ تڑپتی تھی فاطمہ صغرا
زنان ہاشمیہ نے وہاں ہجوم کیا ہلا کے شانہ کہا شاہِ مشرقین آئے اُٹھو حسین کے عاشق اُٹھو حسین آئے