Kanz e Aza

جب خاتمہ بخیر ہوا فوجِ شاہ کا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

جب خاتمہ بخیر ہوا فوجِ شاہ کا کوثر پہ قافلہ گیا پیاسی سپاہ کا گھر لُٹ گیا جنابِ رِسالت پناہ کا

خاک اُڑ رہی تھی حال یہ تھا بارگاہ کا

بھائی تھے نے رفیق نہ وہ نورِ عین تھے

دو بہنیں رونے والی تھیں اور اک حسین تھے

فرماتے تھے کہ واہ یہ تاخیر اے اجل اکبر کے بعد کونسا تھا زیست کا محل

اب مجھ کو اک برس کے برابر ہے ایک پل موت آئے اب یہ ہے شجرِ زندگی کا پھل

اک جا چھری گلوں پہ جو چلتی تو خوب تھا یہ جان اُن کے ساتھ نکلتی تو خوب تھا

ہم سب کے بعد خلق سے جانے کو رہ گئے

سر پیٹنے کو اشک بہانے کو رہ گئے اِس نوجواں کا داغ اُٹھانے کو رہ گئے پیری میں آہ ٹھوکریں کھانے کو رہ گئے

بیٹا کہاں خبر جو دمِ انتقال لے اِتنا نہیں کوئی کہ گروں تو سنبھال لے ناگاہ سوئے لاشِ پسر جا پڑی نظر

چلائے دل کو تھام کے سلطانِ بحروبر

سوتے ہو کیا دھرۓ ہوئے رُخسار خاک پر اکبر اُٹھو کہ گھوڑے سے گرتا ہے اب پدر

بھولے پدر کو نیند میں قربان آپ کے

آؤ نمازِ عصر پڑھو ساتھ باپ کے

عباسِ نامدار ترائی سے اُٹھ کے آؤ

پھنکتا ہے قلب جل رہے ہیں سب جگر کے گھاؤ

چھڑ کو میری زرہ پہ جو پانی کہیں سے پاؤ

چلتے ہوئے عدم کے مُسافر سے ملتے جاؤ

غفلت کی تم کو نیند ہے شبیر کیا کرئے میری طرح کسی کو نہ بیکس خدا کرئے

چِلّایا فوج کو پسرِ سعدِ نابکار

لو گھیر لو حسین کو سب مل کے ایک بار پَلٹے پَرے سواروں کے لے کر رِسالہ دار

دو غول باندھے آئے کماندار دس ہزار تیرافگنوں میں تیغوں میں بھالوں میں گِھر گئے

بیکس حسین برچھیوں والوں میں گِھر گئے

سید کے مَرتبہ کو نہ جانا ہزار حیف تیروں سے صدرِ پاک کو چھانا ہزار حیف

شانے تھے ناوکوں کا نشانہ ہزار حیف مظلوم کا وہ برچھیاں کھانا ہزار حیف

ٹوٹے تھے سب رسول کے پیارے حسین پر کیا وقت پڑ گیا تھا تمھارے حسین پر گِرتے ہیں آپ کون سنبھالے کوئی نہیں

سینے سے کون تیر نکالے کوئی نہیں

سب مر چکے ہیں چاہنے والے کوئی نہیں

بے جاں پڑے ہیں گود کے پالے کوئی نہیں

بیکس ہیں آپ زور سپاہِ عدو کا ہے

منھ جس کا دیکھتے ہیں وہ پیاسا لہو کا ہے

فضہ نے جاکے خیمہ میں بیوؤں کو دی خبر

ہے ہے مرے خوزادے کا کٹتا ہے تن سے سر

بستر سے اٹھکے گر پڑے سجادِ نوحہ گر

خیمے سے نکلیں بی بیاں بچوں کو چھوڑ کر ہلتا تھا عرش حضرتِ زینب کے بین سے

گِر گِر کے دوڑتی تھی کہ مل لوں حسین سے

چِلاتی تھی ارئے میرا بھائی ہے کس طرف لوٹی ہوئی علی کی کمائی ہے کس طرف

دریا کدھر ہے خوں کا ترائی ہے کس طرف

سونے کی جا حسین نے پائی ہے کس طرف رَستہ دئے ائے زمیں کہ فلک کی ستائی ہوں میں اپنے پیارے بھائی سے ملنے کو آئی ہوں میں سیدہ ہوں رحم کرو لاش کو بتاؤ ائے اہلِ قریہ بنتِ علی کی مدد کو آؤ

دنیا میں تم خوشی رہو عقبٰی میں چین پاؤ

سید کدھر ہے خون میں غلطاں بتاتے جاؤ

یاں لُٹ گئے فلک نے یہ دکھ ہم پہ ڈالے ہیں ائے بھائیو مدینہ کے ہم رہنے والے ہیں

شہ کے کراہنے کی جو آنے لگی صدا

دوڑی اُدھر نبی کی نواسی برہنہ پا

دیکھا بہن نے کٹتے ہوئے بھائی کا گلا

آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے گری بنتِ مرتضٰی

غم سے کلیجہ پھٹ گیا زہرا کی جائی کا اُٹھی تو دیکھا نیزہ پہ سر اپنے بھائی کا