بانو کی آج کس لئے سنسان گود ہے
بچی کو کیا ہوا ارے ویران گود ہے ماں سر جھکائے بیٹھی ہے ویران گود ہے
بالی سکینہ مرگئی سُنسان گود ہے نازوں سے جو پلی تھی شہ مشرقین کی مٹی میں آج ملتی ہے بچی حسین کی
بانو کے بین ہیں میری گودی اُجڑ گئی
باقی تھی شہ کی ایک نشانی کدھر گئی
يارب میں کیا کروں میری بچی بچھڑ گئی اماں کو روتی چھوڑ کے بیٹی کدھر گئی
آواز ایک بار تو ماں کو سناؤ تم
بانو جئے تو کیسے جئے یہ بتاؤ تم ہے ہے جوان بیٹے کا سہرا نہ دیکھی میں اصغر کو ہائے گھٹنوں چلتا نہ دیکھی میں ارمان کوئی اپنا نکلتا نہ دیکھی میں تیرے بھی کوئی کاج کو ہوتا نہ دیکھی میں وارث کا سایہ اُٹھ گیا بیٹوں کو کھوئی ہوں
باقی جو ایک بچی تھی آج اس پہ روئی ہوں تھی آرزو کہ تم کو میں پرواں چڑھاؤں گی
دلہن بنا کے دھوم سے شادی رچاؤں گی
دل کے تمام اپنے میں ارماں نکالوں گی
یہ کیا خبر تھی خاک میں تجھ کو ملاؤں گی میں بد نصیب رہ گئی رونے کے واسطے تم جارہی ہو قبر میں سونے کے واسطے
سجاد بولے صبر کرو تم پہ میں فدا میت اُٹھا نے جھک گیا بیمار بے دوا
منہ رکھ کے منہ پہ بولا بہن تیرے میں فدا تجھکو ملانے خاک میں سجاد رہ گیا تھرائے ہاتھ اور مصیبت بپا ہوئی میت کا اُٹھنا تھا کہ قیامت بپا ہوئی میت نکل رہی ہے اندھیرا مکان ہے لائے چراغ کون پرایا مکان ہے کُرتا کفن ہے پھول ہے نے سائبان ہے
غربت کی موت ہے یہ یتیمی کی شان ہے میت بہن کی بھائی کے ہاتھوں پہ آتی ہے ہے ہے سکینہ قبر میں سونے کو جاتی ہے
ماں سر کو پیٹ کر یہی کہتی ہے بار بار
آہستہ لے کے جائیو بیٹا تیرے نثار
جا کر نہ پھر یہ آئے گی بابا کی سوگوار
جی بھر کے دیکھ لینے دو پھر مجھ کو ایک بار لوگو بتاؤ کیسے میں کفنانے دوں اسے
ماں ہوں میں کیسے گاڑ نے لے جانے دوں ایسے
بھائی کے ہاتھ ضعف سے جب تھر تھراتے ہیں ننھی سی لاش سینے سے لپٹائے جاتے ہیں
زنجیر جب اُلجھتی ہے گھبرائے جاتے ہیں
صورت بہن کی دیکھتے ہیں روتے جاتے ہیں
صدمے بہت اُٹھائی ہے بیٹی حسین کی گردن بھی ہے چِھلی ہوئی اس نورِ عین کی پہلے پہل اُٹھائی ہے میت خدا گواہ
زنجیر و طوق سے ہوئی حالت میری تباہ مرقد کی تیرگی ہے کہ اللّہ کی پناہ رکھوں میں کس طرح سے سکینہ کو آہ آہ یا رب نہیں ہے تاب دلِ درد ناک میں کیونکر چھپاؤں ننھی سے بچی کو خاک میں
عابد نے دل کو تھام کے مرقد بنالیا اور تھر تھراتے ہاتھوں سے میت اُٹھا لیا
آیا جو پیار گودی میں پھر اپنی لے لیا منہ چوما دیکھا یاس سے اور ہائے رو دیا لپٹا کے ننھی لاش کو آنسو بہاتے ہیں اس بیکسی کو دیکھ کر دربان روتے ہیں
آخر لٹایا قبر میں میت بحالِ زار
شانہ ہلا کے کہنے لگے رو کے بار بار تاریکیٔ مزار سے ڈرنا نہ غم گسار گودی سمجھ کے سوئیو ماں ہو تیرے نثار
یہ کہہ کہ مٹی ڈالتے تھے منہ کو پھیر کر اور فاتحہ بھی پڑھ کے اُٹھے تھام کر جگر
سر کو جھکائے بیٹھ گیا شہ کا مہ لقا
بانو تڑپ کے کہنے لگی تجھ پہ میں فدا
بیٹا بتاؤ میری سکینہ کو کیا کیا
بچی کدھر گئی مری ڈھونڈوں کہاں میں آہ گِر کر زمیں پہ کہتی ہے فریاد یا حسین
بانو غریب ہوگئی برباد یا حسین
زندان سونا سونا ہے یہ کیسی رات ہے تنہا ہوئی ہے پہلے پہل بڑھتی رات ہے
چلا رہی ہوں کب سے نہ یہ گھٹتی رات ہے
بچی کو ہائے قبر میں یہ پہلی رات ہے
بچوں کو پالا ہائے لحد میں سلانے کو اور ماں بے چاری رہ گئی آنسو بہانے کو