Kanz e Aza

ائے روزہ دارو آہ و بُکا کے یہ روز ہیں

A marsiya. Lyrics in Urdu.

ائے روزہ دارو آہ و بُکا کے یہ روز ہیں

سادات پر نزولِ بلا کے یہ روز ہیں

سرتاجِ اوصیاء کی عزا کے یہ روز ہیں تم سے وداعِ شیرِ خدا کے یہ روز ہیں

زخمی ہوا امام تمھارا نماز میں


ظالم نے روزہ دار کو مارا نماز میں ماہِ مبارکِ رمضان اور خدا کا گھر تڑکا وہ نور کا وہ شبِ قدر کی سحر پیشِ خدا وہ سجدے میں شیرِ خدا کا سر اور ہائے تیغِ ظلم کی ضربت وہ فرق پر

فوارے خوں کے زخمِ جبیں سے بہا کئے


سجدے میں آپ رَبی العالٰی کہا کئے

سر پیٹو مومنو سرِ حیدر ہوا دو نیم ایماں کے برج کا مہ انور ہوا دو نیم

سونچو تو فرق شاہ کا کیونکر ہوا دو نیم لکھا ہے مغز تک سرِ اطہر ہوا دو نیم

زہرا نے بال کھولے نبی ننگے سر ہوئے تم بے امام اور حسن بے پدر ہوئے لکھا ہے جب دو نیم ہوا فرقِ مرتضٰی


سدرہ سے جبرائیل کے رونے کا غل اُٹھا پھینکی سروں سے زینب و کلثوم نے ردا

چلا کے بھائیوں کو پکاری غضب ہوا


سنتے ہو جبرائیل نے اُس وقت کیا کہا وہ بولے پیٹ کر قتل المرتضٰی کہا

دوڑے یہ کہکے جانبِ مسجد وہ نیک ذات

ٔڈوبی ہوئی لہو میں ملی کشتی نجات ماتھے پہ خون باپ کا مل کر کہی یہ

بات


ہے ہے اُٹھایا قبلہ و کعبہ پہ کس نے ہات

دلوایا نانا جان کو دارالسلام میں


بن باپ کا کیا ہمیں ماہِ صیام میں ناگاہ نمازیوں کا گروہ آیا ننگے سر

حیدر نے مجتبٰی سے کہا آنکھیں کھول کر پڑھواؤ تم نماز جماعت کی ائے پسر ہم بیٹھے بیٹھے پڑھتے ہیں اپنے مقام پر لیکن جبیں کے زخم پہ رومال باندھ دو میرا سرِ شگافتہ ائے لال باندھ دو

ِباندھا حسن نے زخمِ سرِ شاہ ذوالجلال

بولے علی کے اور کسو درد ہے کمال


شبر نے جب کسا تو کیا پھر وہی مقال پھر چست باندھ کر یہ پکارا وہ خوشخصال اب درد کیسا ائے اسدِ ذوالجلال ہے

ہاتھوں سے سر پکڑ کے کہا وہ ہی حال ہے پڑھوا کے پھر نماز جماعت کی مجتبٰی


بابا کے سر پہ پڑھنے لگے آیۂ شفا ناگاہ آکے یہ کسی عورت نے دی ندا

زہرا کے پیارو تم سے یہ زینب نے ہے کہا

بابا کو میرے جلد جو گھر میں نہ لاؤ گے

تو سر بر ہنہ مجھ کو بھی مسجد میں پاؤ گے


بولے علی حواس ابھی سے بجا نہیں

زینب سے کہدو کوفہ ہے یہ کر بلا نہیں میں بے دیارو بےکس و بے آشنا نہیں


شیعہ ہیں گرد نرغۂ اہلِ جفا نہیں پردے سے ننگے سر تو ابھی کیوں نکلتی ہے کیا حلق پر حسین کے تلوار چلتی ہے اُم البنیں کو پایا جو صدمے میں مبتلا

باہیں گلے میں ڈال کے عباس نے کہا ائے اماں صدقہ دینے سے رَد ہوتی ہے بلا

بھائی حسن حسین ہیں زہرا کے دلربا روشن کرو جہان میں تم اپنے نام کو

صدقہ اُتارو شاہِ نجف پر غلام کو یہ سن کے اُس ہراس میں سنبھلی وہ بیقرار لے کر بلائیں بولی چلو میرے گلعذار


بابا پہ تم نثار ہو تم پر یہ ماں نثار

چلائی بڑھ کے مجمع ماتم میں ایک بار


سیدانیو رنڈاپے کے غم سے پناہ دو

صدقہ اُتارنے کو میں آئی ہوں راہ دو

بولے علی تو ہوش میں ائے نوحہ گر نہیں

عباس کے وقار کی تجھ کو خبر نہیں یہ فاطمہ کا بیٹا ہے تیرا پسر نہیں


شبیر کے لئے کوئی ایسی سپر نہیں

زہرا سے رتبہ پوچھٔے اس نورِعین کا یہ کربلا میں ہوئیگا فدیہ حسین کا