زندانِ غم تھا موسیٔ کاظم کے واسطے تازہ ستم تھا موسیٔ کاظم کے واسطے
آرام کم تھا موسیٔ کاظم کے واسطے
بے حد الم تھا موسیٔ کاظم کے واسطے
چُھٹ کر پدر سے حاملِ رنج و محن رہے پابند حکمِ حق کے امامِ زمن رہے
بیدل تھے انقلابِ جہاں سے شہ انام
دنیائے دیں کے نام سے نفرت رہی مدام
بیشک سرائے دہر ہے عبرت فزا مقام ہے صبح کو ثبات نہ کچھ اعتبارِ شام گر نور کا عمل کبھی ظلمت کا دور ہے
دن کی کچھ اور شام کی حالت کچھ اور ہے پیارا بہت تھا جعفرِ صادق کو اپنا ماہ
حضرت کے بعد ابرِ ستم نے نہ دی پناہ نورِ خدا سے پھر گئے اَعدائے روسیاہ
عز و شرف میں شہ کے نہ تھی جائے اشتباہ
دل مطمعیں تھا رحمتِ حق کے نزول سے
سینہ بھرا ہوا تھا علومِ رسول سے
حَلَّالِ مشکلات کے وارث امامِ دیں مالک ہر آسمان کے مختارِ ہر زمیں
فرمانروائے ملکِ ولایت کے جانشیں مشہور دو جہاں میں جہاندار ہفتمیں
آتے تھے کس ادب سے ملک بارگاہ میں
حیدر کا تخت و تاج تھا سرکارِ شاہ میں
سادات کو رئیسوں کو نامے کئے رقم
جاہل نے بھیجے خط علما کو بھی یک قلم مضمون یہ تھا کہ مکے میں آئیں عرب عجم اقرار میں کرم ہے اور انکار میں ستم مانیں گے حکم جن کو علاقہ ہے دین سے
بیعت کریں سب آکے مرے جانشین سے ہر گز مجھے اِطاعتِ کاظم نہیں قبول میں چاہتا ہوں قید کروں اُن کو یا رسول
رکھتا ہے اس کی ذات سے کھٹکا یہ دل ملول
برپا ہوا فساد تو پھر اس سے کیا حصول تدبیر وہ کروں میں کہ قصہ ہی پاک ہو ایسا نہ ہو حضور کی اُمت ہلاک ہو تھا روضۂ رسول میں سلطانِ انس و جاں مشغول تھا نماز میں وہ ہادیٔ جہاں پہنچے ملا زمینِ ستمگر کے ناگہاں کیوں کر میں ظالموں کی شقاوت کروں بیاں نرغہ سیاہ کاروں نے اک بار کر لیا اُس آہوئے حرم کو گرفتار کر لیا ہیمات کھینچتے ہوئے جب لے چلے شقی
فریاد شہ نے کی طرفِ تربت نبی روکر کہا کہ دیکھئے خادم کی بیکسی کیا ظلم مجھ پہ کرتی ہے اُمت جناب کی
ڈرتے نہیں یہ لوگ خدا اور سول سے رکھتے ہیں بغض نسلِ علی و بتول سے ہارون کا تھا حکم کہ ہوں قتل شاہِ دیں
چل سکتی تھی نہ حاملِ بصرہ کی تیغغِ کیں
حالت وہ دیکھتا تھا کہ دل اُس کا تھا حزیں
سجدے میں رہتی تھی شہ ابرار کی جبیں کرتے تھے صبر اپنے بزرگوں کی شان سے نکلی نہ ظالموں کی شکایت زبان سے یہ کارِ سخت اور کسی کے سپرد کر ورنہ رہا کروں گا میں سید کو بے خطر گھبرایا پڑھ کے خط کی عبارت کو اہلِ شر
باز آیا ظلم سے نہ ستمگار و بد گہر
بصرے سے بیوفا نے بلا بھیجا شاہ کو
بغداد میں اسیر کیا بے گناہ کو
غمخوار قید خانہ میں تھے شاہِ ذوالجلال
سجدوں کو طول دیتے تھے سلطانِ خوشخصال
فاقوں سے گھل گیا تھا بدن ضعف تھا کمال اُٹھنا تھا ناگوار نقاہت کا تھا یہ حال
سمجھا نگاہ جس کی پڑی جسم پاک پر کپڑا پڑا ہوا ہے کوئی فرشِ خاک پر
آخر تڑپ تڑپ کے مسافر گذر گیا مظلوم قید خانے کو ویران کر گیا
حیدر کے پاس وارثِ خیر البشر گیا
بغداد میں مدینے کا سلطان مر گیا
ساماں تھا کیا نبی کے یگانے کے واسطے مزدور آئے لاش اُٹھانے کے واسطے