Kanz e Aza

بانو پچھلے پہر اصغر کے لئے روتی ہے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

بانو پچھلے پہر اصغر کے لئے روتی ہے ایک وہ جاگتی ہے خلقِ خدا سوتی ہے

سر کو بھی پیٹتی ہے جان کو بھی کھوتی ہے یہ عجب غم ہے کہ تسکین نہیں ہوتی ہے پیٹتے پیٹتے بے ہوش جو ہو جاتی ہے

علی اصغر علی اصغر کی صدا آتی ہے کبھی کونے میں وہ منھ ڈھانپ کے چلاتی ہے اور کبھی صحن میں گھبرا کے نکل آتی ہے کوکھ پکڑے ہوئے ہر ایک طرف جاتی ہے

ڈھونڈھتی ہے مگر اصغر کو نہیں پاتی ہے تَن کو لرزِش ہے جُدا اور ہے منھ زرد

جُدادل تڑپتا ہے جُدا سینےمیی ہےدرد جُدا کبھی کہتی ہے کہ گھر میں مرے اندھیارا ہے

علی اصغر کی جدائی نے مجھے مارا ہے

ہائے میں گھر میں ہوں جنگل میں مرا پیارا ہے مہربانی جو کرے موت تو چھٹکارا ہے کب تلک راتوں کو ہم نالہ و فریاد کریں یا الہی علی اصغر مجھے اب یاد کریں گود پھیلا کے کبھی کہتی ہے دلبر آجا روح بے چین ہے آ جا علی اصغر آجا

دل تڑپتا ہے مرا گود کے اندر آجا

فاطمہ کیلئے آجا پئے حیدر آجا

بوند پانی کیلئے ہائے تری جان گئی

آمیں صدقے گئی واری گئی قربان گئی

آکے سینے سے مرے سینہ لگا دو بیٹا

آگ بھڑکی ہے کلیجہ میں بجھا دو بیٹا

خشک منھ اپنا مرے منھ سے ملا دو بیٹا اک نظر چاند سی تصویر دکھا دو بیٹا

جاؤ پھر خلد میں ماں تم کو نہ بہلائے گی ایک دم سے نہ زیادہ تمہیں ٹہرائے گی لوریاں ہم تمہیں اے لال دیا کرتے تھے

آپ لیٹے ہوئے جھولے میں ہنسا کرتے تھے گھٹنیوں گھٹنیوں گر آپ چلا کرتے تھے کرتا پکڑے ہوئے ہم ساتھ رہا کرتے تھے ہائے ماں باپ سے قسمت نے چُھڑایا تم کو

سونے جنگل میں مری جان سُلایا تم کو یاد ہر چیز تری آتی ہے ائے نیک خصال میری نظروں کے تلے پھرتی ہے وہ تیری چال

جٹی جٹی وہ بھنویں اور جھنڈولے وہ بال

چھوٹی چھوٹی وہ تری انگلیاں آئے میرے لال

بوئے گل آتی تھی بیٹا ترے پیراہن میں

خوب کھلتی تھی علی بند تری گردن میں

خلق سب سوتی ہیں راتوں کو گھروں میں اپنے

ہم اگر لیتے ہیں کروٹ تو قسم لو ہم سے نیند آتی مرے پہلو میں اگر تم ہوتے

تم تو اے لختِ جگر گود میں مرقد کے گئے یاد اِس پالنے والی کی بھلائی تم نے پائینتی باپ کی اے لال بسائی تم نے ہائے اصغر نہ ترا دین ہوا ماں سے ادا

بوجھ کوئی مری گردن سے نہ اترا تیرا نہ تری سالگرہ کی نہ ترا دودھ بڑھا

نہ لحد تجھ کو ملی اور نہ کفن تجھ کو ملا تم تو مارے گئے چھاتی پہ لٹاؤں کس کو

چھوٹے چھوٹے یہ شلوکے میں پنہاؤں کس کو

بین کرتی تھی یہ سر پیٹ کے بانو دکھیا

آگے اسطرح سے ہے راوی پُر غم لکھا

آئی اک سمت سے واں پیٹنے رونے کی صدا ہر طرف بانوئے بیکس نے با حسرت دیکھا رو کے کہنے لگی معلوم نہیں ہوتا ہے کوئی بیٹھا ہوا ہمراہ مرے روتا ہے کون ہے میری طرح دکھ میں پھنسا ائے داور کون بیکس ہے مری طرح سے روتا آکر

یہ وہ کہتی تھی کہ یہ آئی صد اس جا پر اے بہو خلد سے آیا ہے یہاں پیغمبر تیرے رونے نے اذیت مجھے پہنچائی ہے

قبر سے آہ تری مجھ کو اُٹھا لائی ہے

غش میں بانو نے جو یہ فاطمہ زہرا سے سنا ہاتھ پھیلا دیئے اور گود میں اصغر کو لیا منہ سے منہ اسکے ملا اور لبوں کو چوما

خوب لپٹا کے کلیجے سے یہ رو رو کے کہا تھی جدائی نے تری آگ لگائی بیٹا تم نے وہ آگ مرے دل کی بجھائی بیٹا