Kanz e Aza

ائے شاہِ کربلا تیری خدمت نہ ہو سکی

A marsiya. Lyrics in Urdu.

ائے سوگوارو آہ و بکا کا مقام ہے اب رُخصتِ حسین علیہ السلام ہے مہماں تمہارا جاتا ہے جو تشنہ کام ہے

سر پیٹو خاک اُڑاؤ کہ ماتم تمام ہے اب وہ صدائے ہائے حسینا نہ آئیگی گھر میں تمہارے فاطمہ زہرا نہ آئیگی ائے شاہِ کربلا تیری خدمت نہ ہو سکی ائے کشتۂ جفا تیری خدمت نہ ہو سکی ائے جانِ فاطمہ تیری خدمت نہ ہو سکی مہمانِ نینوا تیری خدمت نہ ہو سکی

جی بھر کے رو سکے نہ یہ گردش نصیب کی مجلس یہ آخری ہے حسینِ غریب کی اگلے برس حسین محرم میں آئینگے

باقی رہی حیات تو یہ غم منائینگے اور فاطمہ کے لال پہ آنسو بہائینگے گر مر گئے تو قبر میں ہم خاک اُڑائینگے تیار قافلہ ہے شہ مشرقین کا لو کربلا کو جاتا ہے کنبہ حسین کا

عباسِ باوفا علی اکبر نہ جائیے

جھولے کو خالی چھوڑ کے اصغر نہ جائیے لے کر برات قاسمِ بے پر نہ جائیے ویراں مکان ہوتا ہے سرور نہ جائیے

آئی صدا نہ روؤ عزادار آئینگے پھر اگلے سال اپنے بھرے گھر کو لائینگے

بن بیاہے نوجواں علی اکبر بھی آئیں گے مشک و علم کے ساتھ برادر بھی آئیں گے

بانو کی گود میں علی اصغر بھی آئیں گے نوشاہ بنکے قاسمِ بے پر بھی آئیں گے

زینب کا ہاتھ تھامے سکینہ بھی آئے گی اک شب کی بیاہی فاطمہ کبریٰ بھی آئے گی

زینب کے لال باندھ کے ہتھیار آئیں گے

صغرا مریض عابدِ بیمار آئیں گے

شبر کے ساتھ حیدرِ کرار آئیں گے

زہرا کو تھامے احمدِ مختار آئیں گے

دل کیوں نہ بیقرار ہو بنتِ رسول کا مجروح آج تک بھی ہے پہلو بتول کا

بے چین فاطمہ ہے نہ آنسو بہاؤ تم

میں جا رہا ہوں رو کے نہ مجھکو رُلاؤ تم

زحمت نہ ہو تو میری زیارت کو آؤ تم تربت پہ آکے اشکوں کی چادر چڑھاؤ تم مہماں جو کربلا میں میرے پاس آئینگے اُن سب کی پیشوائی کو عباس آئینگے لو الوداع ہوتا ہے رُخصت یہ تشنہ کام

تم رو رہے ہو ماہِ محرم سے صبح و شام

کوثر پہ اپنے ہاتھ سے دونگا میں بھر کے جام رُخصت حسین ہوتا ہے تم پر مرا سلام

دونو جہاں میں خوش رہو اور شاد تم رہو اماں دعاںٔیں دیتی ہیں آباد تم رہو تم خوش نصیب ہو تمہیں یہ مرتبہ ملا

زہرا بھی تم میں بیٹھ کے روتی ہے ایک جا کہتی ہے میرے بچہ پہ کرتے ہیں یہ بکا مجھ سے نہ ہوگا ان کا کبھی شکریہ ادا احساں نہ تابہ حشر بھلائیگی فاطمہ

جنت میں تم سے پہلے نہ جائیگی فاطمہ ہاں عاشقو حسین کے آہ و بکا کرو

زہرا کا ساتھ دو مددِ مصطفٰے کرو

حقِ محبتِ شہ بیکس ادا کرو اب کوچ ہے حسین کا محشر بپا کرو لو اب وداع کیجیو آلِ رسول کو

دو آخری حسین کا پُرسہ بتول کو ائے تشنہ کام و بیکس و ناکام الوداع ائے مبتلائے حسرت و آلام الوداع ائے بے کفن علی کے گل اندام الوداع مذبوحِ تیغ شمرِ بد انجام الوداع مظلومیت پہ آپکی جاں اپنی کھوئینگے

جب تک ہیں زندہ آپکے ماتم میں روئینگے ائے شاہِ کربلائے معلیٰ سلام لو ہم بیکسوں کے والی و مولیٰ سلام لو

آقا سلام لو شہ والا سلام لو ائے فاطمہ کے چاند ہمارا سلام لو رُخصت یہ آخری ہے دلفگار آئے ہیں مولا سلام لو یہ عزادار آئے ہیں