ابن الرضا بھی سالکِ راہِ رضا رہا
سجادۂ رسول پہ شغلِ دعا رہا ہر رنج میں زبان پہ شکرِ خدا رہا گنتی کے دوستدار تھے دشمن ہزارہا
بد خواہ کتنے اس قمر مرتضی کے تھے تھا اک چراغ سینکڑوں جھونکے ہوا کے تھے کیا حال ہو رضا کے جگر بند کا بیاں پیارا تھا مرتضیٰ کا وہ سلطانِ انس و جاں معجز نما امامِ زماں ہادیٔ جہاں ایسے ولی کے در پۓ ایذا تھے بدگماں
سوزِ الم سے دل میں تھے چھالے پڑے ہوئے تھے رشکِ گل کو جان کے لالے پڑے ہوئے لغت خدا کی معتصمِ تابکار پر
بھیجا پیام چھوڑیئے گھر آئیے ادھر
در پیش آہ پھر ہوا بغداد کا سفر پر اس سفر نے منزلِ آخر کی دی خبر مظلوم کا یہ کوچ وطن سے اخیر تھا مشتاق کنج قبر کا وہ گوشہ گیر تھا ہمراہ اُم فضل بھی تھی موردِ عذاب یثرب سے جانے کی تھی خوش اسکو بے حساب اسکا چچا تھا معتصمِ خانماں خراب
بغداد میں پہنچ گئے شاہِ فلک جناب تو قیر ظاہری تو بہت بے وفا نے کی پر فکر قتلِ شاہ اُس اہلِ جفا نے کی
بغداد میں مقیم رہے سال بھر حضور ناری یہ چاہتا تھا کہ گل ہو چراغِ نور واقف تھا اُمِ فضل کی حالت سے پرفتور رکھتی تھی بغض رہبرِ عالم سے بے شعور
ظالم کے مشورہ سے وہ خرسند ہوگئی کہنے پہ معتصم کے رضا مند ہو گئی یہ بے مروتی یہ ستم یہ غضب یہ قہر وہ بیکسی امام کی وہ دور اپنا شہر
دیکھیں تو اہلِ دل خلشِ خار باغِ دہر انگور رازقی میں دیا فاقہ کش کو زہر لیں کروٹیں علیٔ ولی کو پکار کے اعضائے پاک سوج گئے دل فگار کے رونے لگی وہ دیکھ کے حضرت کا حالِ زار
فرمایا آپ نے کہ عبث ہے تو اشکبار اس عارضے سے دیگا سزا تجھ کو کردگار
جس کا کوئی عِلاج نہیں ائے جفا شعار
دیتی جواب کیا سرِ ملعونہ جھک گیا
دم شاہِ دیں کا زہر کے صدموں سے رک گیا تکلیف پائی چند شب و روز جاں گسل تاثیرِ سم سے آگ تھی سینے میں مشتعل وہ کرب وہ جگر کی حرارت وہ دردِ دل ہوتا گیا رسول کا دلدار مضمحل
حاکم نے کی مدد نہ توجہ طبیب نے
آخر سفر کیا سوئے جنت غریب نے کملا کے رہ گیا گلِ تر بوتراب کا مُرجھا یا نونہال رسالت مآب کا
دیکھا جوانا مرگ نے رنگ انقلاب کا وہ موت بیکسی کی وہ موسم شباب کا کیوں پیرِ چرخ جائے تاسف ہے یا نہیں کمسن اِماموں میں کوئی ایسا ہوا نہیں انجام اس طرح بھی کتابوں میں ہے رقم
شیعوں نے آپ کے جو سنا یہ نیا ستم روتے ہوئے گئے سرِ تسلیم کر کے خم میت کو بہرِ غسل اُٹھایا بچشمِ نم
سینوں کو اپنے خستہ جگر پیٹنے لگے
عمامے پھینک پھینک کے سر پیٹنے لگے نہلایا اُس مسافرِ دار السلام کو
بھر آئے دل کفن جو پنہایا اِمام کو تابوت میں لٹا کے شہ خاص و عام کو پُرسہ دیا علی کو رسولِ اَنام کو نالے طواف کرتے تھے عرشِ مجید کا ماتم کیا اُٹھا کے جنازہ شہید کا
جس جا تھی قبرِ موسیٔ کاظم ملک وقار پہلو میں اُس لحد کے کھدا دوسرا مزار پوشیدہ زیرِ خاک ہوا نورِ کردگار
حسرت پکارتی تھی کہ اِس شان کے نثار تاخیر دفن سے بھی شرف آشکار ہے یہ وارثِ حسین غریب الدیار ہے