نام ہے نیک نام فضّہ کا
خدمتِ حق ہے کام فضّہ کا رب سے پوچھو مقام فضّہ کا
سر سے پا تک سلام ہے فضّہ واجب الاحترام ہے فضّہ وہ مدینے میں آںٔی تھی جس دم اُس پہ طاری تھی بےکسی کا الم تھا اسیری کا اُس کو غم پیہم اُس پہ برسا نبی کا ابرو کرم نام اُس کا رسول نے رکھا اپنے گھر میں بتول نے رکھا اُس کو قسمت علی کے گھر لاںٔی اُف رے فضّہ کی دور اندیشی تربیت اُسکی فاطمہ نے جو کی ہو کے سیفل چمک اُٹھی چاندی
خاک سے نور بن گںٔی فضّہ
سر تا پا خور بن گںٔی فضّہ اپنی فطرت کو حق مزاج کیا گھر میں زہرا کے کام کاج کیا
حُبِّ زینب کو سر کا تاج کیا
دین کی سلطنت میں راج کیا
حق کی نظروں میں با وقار بنی وہ کنیزی میں نا جوار بنی
جب جہاں سے گزر گںٔی زہرا تھا عجب حال غم سے بچوں کا اُٹھ گیا ماں کا سر سے جب سایا
غمزدوں کو تھا آسرا تیرا ایسے عالم میں بھی رفاقت کی تو نے ماں کی طرح سے خدمت کی اُمِّ کلثوم اور زینب کی پاسبانی میں تیری عمر کٹی
دل سے حسنین پر نثار ہوںٔی
سب کو گھیرے مامتا تیری تیری اُلفت کا رنگ انوکھا ہے ماں کی آنکھوں سے سبکو دیکھا ہے کرتی تھی گھر کا روز آنہ ایک دن فضّہ ایک دن زہرا یا بانو کا اور کنیزی کا گھر میں زہرا کے جو نہیں پایا
دل سے حیران ہو گںٔی فضّہ گھر پہ قربان ہو گںٔی فضّہ رونیاں تو نے بھی جو دیں فضّہ تجھکو بھی رب نے حق دیا تیرا
ذکر تیرا بھی شکریہ میں کیا ہل اتیٰ میں بھی ہے تیرا حصّہ تیری خیرات خیر کامل ہے
ساتھ تو پنجتن کے شامل ہے تجھ پہ ٹوٹے ستم جو بعدِ نبی
فاطمہ کی عجیب حالت تھی ہوںٔی جس دم وفات محسن کی تو نے کی فاطمہ کی دل جوںٔی
غم کے طوفاں کو تو نے ٹالا ہے تو نے شہزادی کو سنبھالا ہے رنج و غم کے سفر میں ساتھ رہی راہِ خوف و ختر میں ساتھ رہی پیاس کی رہگزر میں ساتھ رہی تشنگی کے نگر میں ساتھ رہی کرنے خدمت کا حق ادا پہنچی
ساتھ زینب کے کربلا پہنچی
فاطمہ کا اُجڑتا گھر دیکھا
جُھلے والے کو خوں میں تر دیکھا
زخمی اکبر کا بھی جگر دیکھا نوکِ نیزہ پہ شہ کا سر دیکھا تو شہ مشرقین کو روںٔی کربلا میں حسین کو روںٔی اۓ کنیزِ بتول نیک صفات رنج و غم سے ملی نہ تجھ کو بحل
صدمے تو نے اُٹھا ۓ ہیں دن رات
شاملِ کربلا ہے تیری وفات رتبہ ماں کا دیا ہے زینب نے تجھ کو امّاں کہا ہے زینب نے
سہہ کے رنج و محن جہاں سے گںٔی
زندگی بھر تو سوگوار رہی تنہا تجھ پہ ہر بلا کی ہوںٔی
خوں رُلاتی ہے بیکسی تیری اشک آنکھوں میں بھر کے لاۓ ہیں
سب عزادار رونے آۓ ہیں