مومنو خانۂ زہرا میں قیامت ہے آج
بیٹیوں پر اللّٰہ اللّٰہ کے آفت ہے آج
غم سے تغیر ہر ایک شخص کی حالت سے آج
خلق سے شبّرِ دیجاہ کی رحلت ہے آج
دشمنِ آلِ نبی نے یہ سِتم ڈھَایا ہے
سَمِ قاتل شہ ذیجَاہ کو دلوایا ہے
حال یہ شہ کی شہادت کا کُتب میں ہے رقم کوزہ میں ڈال دیا جُعدۂ ملعونہ نے سم پیاس تھی شب کو جو بیدار ہوئے شاہِ اُمم
نوش پانی کیا اُس کوزے سے شہ نے جس دم
غیر احوال ہوا فاطمہ کے دِلبر کا
منہ کو کٹ کٹ کے جگر آنے لگا شبر کا
دی یہ زینب کو صدا تھام کے ہاتھوں سے جگر پھر کسی نے دیا سم بھائی کو دوڈو خواہر پیھرتا ہے کوئی گویا کہ جگر پر خَنجر ہے یہ نزدیک سوے خلد ہو دنیا سے سفر
جلد اب تابع تقدیر کو بلواؤ بہن
ٹکڑے دل ہوتا ہے شبیر کو بلواؤ بہن
خبرِ بد کِسی بھائی کی نہ سنوائے خدا
بھائی کے رنج میں بھائی کو نہ رولاوے خدا
ٹکڑے بھائی کہ کلیجے کے نہ دِکھلائے خدا
بھائی کہ آگے نہ بھائی کی اجل آوئے خدا
سُن کے احوالِ حَسن صدمہ و غم پائے ہیں
بھائی سے رخصتِ آخر کو حُسینِ آئے ہیں کہتے ہیں ضبط کا مجھکو نہیں یارا بھائی اُٹھ گیا خلق سے اب چین ہمارا بھائی ہو گیا ٹکڑے جگر زہر سے سارا بھائی
دیکھوں کس طرح سے یہ حال تمہارا بھائی
بھائی جاں بیکس و ناشاد سے منہ موڑتے ہو
ستم ایجادوں کے نرغے میں مجھے چھوڑتے ہو ہو گیا پانی یہ حال جو مَعلوم ہوا لیکے شبیر نے اُس کوزے کو پینا چاہا
بولے بھائی سے لپٹ کر حسنِ سبز قبا
بھائی یہ آپ کا حصّہ یہ کیا یہ کیا اپنے وعدے کو ذرا دھیان میں لاؤ بھائی ہیں پریشان خرم جاں نہ گنواؤ بھائی تم پہ جو بعد مرے ہونا ہے پیارے بھائی ہیں مرے پیشِ نظر ظلم وہ سارے بھائی
دل پہ چلتے ہیں میرے رنج کے آرے بھائی تشنہ لب رہتا ہے دریا کے کنارے بھائی
بھوک میں تیر و تبر جسم پہ کھانا ہے تمہیں
آبِ شمشیر سے پیاس اپنی بجھانا ہے تمہیں تین دن بیٹتے رونے میں ہوئے جبکہ بَسر کھول کر آنکھوں کو کہنے لگے سب سے شبّر تم سے رخصت ہے میری اے حرم خیرِ بشر
آئے ہیں جلد سے لینے کو میرے پیغمبر
سونپَا بھائی کو خدا کو تُمہیں اُنکو
سب تیری طرح امام اپنا سمجھنا اُنکو کہتے تھے یہ ہوا زرد رخِ پاک تمام ہچکیاں آنے لگیں ہو گئے بے چین امام پڑ گیا آلِ رسولِ عربی میں کہرام کلمہ پڑھ کے سوئے خلد گۓ شاہِ امام پیٹ کر سینہ و سر اہلجرم رونے لگے منہ کو اشکوں سے حسین ابن علی دھونے لگے لاش پہ گر کے کہا ہاے اخی ہاے اخی
ساتھ مجھکو نہ لیا ہائے اخی ہائے اخی کر گئے آپ قضا ہائے اخی ہائے اخی
چین بھائی کا گیا ہائے اخی ہائے اخی
دُکھ میں اب کون میری لیگا خبر بھائی جاں کر گئے چھوڑ کے بھائی کو سفر بھائی جاں
خلق میں ہوتا ہے جانکاہ الم بھائی کا
صدمہ ہوتا نہیں کچھ موت سے کم بھائی کا
دے نہ خالق کِسی ہمشیر کو غم بھائی کا کِسی خواہر سے بچھڑنا ہے سِتم بھائی کا
بھائی کے داغ کو ہمشیر کے دل سے پوچھو رنج یہ زینبِ دلگیر کے دل سے پوچھو لاش پر بھائی کی روتے تھے شہنشاہِ ہُدا
آئیں جو اتنے میں واں بنتِ خنابِ زہرا اشک آنکھوں میں تھے رقت سے بدن کانپتا تھا
بھائی کے لاش پہ چادر کو اُڑھا کر یہ کہا رنج میں اپنے زیادہ نہ رُلاؤ بھائی
جلد ناشاد بہن کو بھی بلاؤ بھائی ہو گئے آپ سوئے خلد رواں بھائی جاں رہ گئی پیٹنے یہ سوختہ جہاں بھائی جاں ہے میری آنکھوں میں تاریک جہاں بھائی جاں پائے گی تم کو یہ ناشاد کہاں بھائی جاں ہوئی پیدا میں بزرگوں کے لئے رونے کو نہیں معلوم کہ جیتی ہوں کِسے رونے کو
حق سے کرنے لگی یہ عرض وہ ناشاد و حزیں
خالقِ جن و بشر ربِ السمٰواتِ و زمیں ایک بھائی کے سوا اب کوئی زینب کا نہیں اسکی بھی جان کے دشمن ہیں ہزاروں بے دیں اب کِسی کی نہ کرے خدمتِ آخر زینب اب اوڑھے نہ کِسی لاش پہ چادر زینب
غسل جب دے چکے میّت کو برادر کی حسین رکھی تابوت میں کفناکے ہوا دل بے چین لے چلے گھر جنازہ جو بعد شیون و شین اہلبیت نبوی دوڑے یہ کرتے ہوئے بین
حجرۂ پاکِ حسن ہو گیا خالی ہے ہے
قبر میں سونے چلے سیّدِ عالی ہے ہے
بہنیں چلاتی ہیں روکر کہو کب آؤ گے مل کے نانا سے برادر کہو کب آؤ گے
بین زوجہ کے تھے سرور کہو کب آؤ گے گھر میں اے سبطِ پیمبر کہو کب آؤ گے
اب نہ پاؤں گی اماں صدمہ و غم سے مولا
چین تھا میرا فقط آپ کے دم سے مولا کون لیگا میرے بچوں کی خبر آپ کے بعد
کِس طرح ہو گی یتیموں کی بسر آپ کے بعد
کیا کرے جی کے یہ تنقیدہ جگر آپ کے بعد
خوب ہے لونڈی بھی مر جائے اگر آپکے بعد
جلد اس گلشنِ ہستی سے گذر جاؤں میں ہونے پائے نہ سوم آپکا مرجَاؤں میں