Kanz e Aza

مالک سے بھرے گھر کے اُجڑ جانے کو پوچھو

A marsiya. Lyrics in Urdu.

مالک سے بھرے گھر کے اُجڑ جانے کو پوچھو گھر والوں سے یہ تفرقہ پڑ جانے کو پوچھو ماں باپ سے قسمت کے بگڑ جانے کو پوچھو

شبیر سے اکبر کے بچھڑ جانے کو پوچھو اللّہ نہ دکھلائے الم نورِ نظر کا

بہہ جاتا ہے آنکھوں سے لہو قلب و جگر کا

جس وقت کہ اکبر کو لگا زخم جگر کا


سینے میں رُکا آکے دم اُس رشکِ قمر کا گرتے ہوئے گھوڑے سے خیال آیا پدر کا

چلائے کہ اب کوچ ہے دنیا سے پسر کا


بیکس کی مُسافر کی خبر لیجئے بابا اپنے علی اکبر کی مدد کیجئے بابا

ٔبیٹے کی صدا سُن کے ہوا صدمہ جانکاہ اک ہوک کلیجہ میں اُٹھی بیٹھ گئے شاہ معلوم ہوا جان چلی آہ کے ہمراہ

دل تھام کے ہاتھوں سے کہا یا اسد اللّہ رنگ اُڑ گیا تھا گیسوؤں پر گرد پڑی تھی تیورا کے جو سنبھلے تو بصارت میں کمی تھی

چلائے بتادو علی اکبر کدھر آئیں


ڈھونڈھیں تمھیں اب بحر میں یا سوئے بر آئیں

بیتاب ہے دل قلب میں لشکر کے در آئیں تم اُٹھ نہیں سکتے تو ہمیں لاش پر آئیں ماں باپ کے جینے کا مزہ لے گئے بیٹا


عہدہ جو تمھارا تھا ہمیں دے گئے بیٹا

بیٹا ہمیں پھر یا اَبتا کہہ کے پکارو مظلوم و غریب الغرابا کہہ کے پکارو ناشاد و گرفتارِ بلا کہہ کے پکارو لب تشنہ و مذبوحِ خفا کہہ کے پکارو

جو وقت معین ہے وہ ہرگز نہ ٹلے گا

خنجر میری گردن پہ اسی طرح چلے گا لے آئی جو بیتابیٔ دل لاشِ پسر پر


جھکتے ہی نظر پہلے پڑی زخمِ جگر پر اک تیر لگا قلبِ شہ جن و بشر پر

سینے پہ کبھی ہاتھ کو مارا کبھی سر پر اُوپر کے دم اُس شیر کو بھرتے ہوئے دیکھا


بابا نے جواں بیٹے کو مرتے ہوئے دیکھا ائے دردِ جگر تھم کہ شہ بحرو بر آلیں ائے جان نہ گھبرا شہ جن و بشر آلیں ائے روح توقف شہ والا اِدھر آلیں ائے موت ٹہر جا پدر آلیں پدر آلیں ارمانِ دلِ زارِ پسر ہوش میں نکلے

حسرت ہے کہ دم باپ کی آغوش میں نکلے

چلائے شہ دیں علی اکبر پدر آیا اُٹھو میرے پیارے میرے دلبر پدر آیا تم ڈھونڈھتے تھے ائے مہ انور پدر آیا ناشاد پدر بیکس و بے پر پدر آیا کچھ دل کی کہو بات کرو ہوش میں آؤ

صدقے پدر آ ؤ میری آغوش میں آؤ منہ کھولے ہو کیوں تیر کو گردن سے نکالوں گر درد نا ہو ہاتھوں سے بازو کو سنبھالوں


گرتا ہے پہاڑ اس کو میں کس طرح سے ٹالوں مرتے اُسے دیکھوں جسے آغوش میں پالوں

بہہ بہہ کے لہو میں جگر آتا ہے تمہارا


سینے سے کلیجہ نظر آتا ہے تمہارا کچھ منھ سے تو بولو علی اکبر علی اکبر

آنکھوں کو تو کھولو علی اکبر علی اکبر رُخصت بھی تو ہولو علی اکبر علی اکبر لو باپ کو رولو علی اکبر علی اکبر

دولھا بھی اِس آرام سے سوتے نہیں بیٹا ہم روتے ہیں اور تم ہمیں روتے نہیں بیٹا

غش میں جو سنی باپ کی آواز پسر نے


بس ہاتھ کو پھیلا دیا اُس رشکِ قمر نے لپٹا لیا چھاتی سے شہ جن و بشر نے منہ کھول کے دکھلائی زباں تشنہ جگر نے

فرمایا کہ قطرہ میرے جانی نہیں ملتا مجبور ہوں بیٹا مجھے پانی نہیں ملتا یہ سنتے ہی بس آنکھوں سے آنسو ہوئے جاری منہ پھیر کے دیکھا سوئے صحرا کئی باری کی عرض حضور آئی ہے زہرا کی سواری پھر درد اُٹھا سینے میں اور غش ہوا طاری کھولے ہوئے آنکھوں کو مسافر ہوئے اکبر ہچکی کا بس آنا تھا کہ آخر ہوئے اکبر