Kanz e Aza

قید سے جب پسرِ مسلمِ بے پر چھوٹے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

قید سے جب پسرِ مسلمِ بے پر چھوٹے

بیکس و بے وطن و عاجز و مضطر چھوٹے

بعد اک سال کے وہ دونوں برا ادر چھوٹے

چھوٹے سے سن میں بڑے رنج اُٹھا کر چھوٹے

دوڑتے تھے کبھی گھبرا کے کبھی گرتے تھے

شبِ تاریک میں دو چاند پڑے پھرتے تھے

رو کے کہتا تھا بڑے بھائی سے چھوٹا ہر دم

بیٹھ کر اب کہیں دم لے لو نہیں اُٹھتے قدم

دوڑتے دوڑتے سینے میں سماتا نہیں دم منزلوں چلنے سے بھائی کبھی واقف نہیں ہم

باپ کے ساتھ تو راحت سے اِدھر آئے تھے تا بہ کوفہ ہمیں گودی میں پدر لائے تھے اس سے کہتا تھا بڑا بھائی بچشمِ گریاں تم میری گود میں آؤ میں تمہارے قرباں

باپ کے وقت کی راحت کا بھلا کیا ہو بیاں

اب تو ہم بیکس و تنہا ہوئے بابا ہیں کہاں

جو مقدر میں ہے وہ جور و جفا دیکھیں گے کیا خبر تھی کہ یتیمی کی بلا دیکھیں گے ناگہاں چرخ پر ظاہر ہوئے آثارِ سحر

صبح کے ہوتے ہی فق ہو گئے وہ رشکِ قمر

دیکھا اک چشمۂ شیریں کے کنارے یہ شجر

جا کے اس نخل میں پنہاں ہوئے مسلم کے پر اور راحت نہ کہیں گیسوؤں والوں کو ملی امن کی جا وہیں ان تازہ نہالوں کو ملی

آفتا بہ لئے وارد ہوئی واں اک زنِ پیر ایک جا اُسکو نظر آگئے دو ماہِ منیر

اس کا منہ دیکھ کے گھبرا گئے وہ طفلِ صغیر تب ضعیفہ نے قریب آن کے یہ کی تقریر یہ تو میں سمجھی کہ آوارہ وطن ہو دونوں کونسے باغ کے تم غنچہ دہن ہو دونوں

رو کے وہ بولے کہ کیا حال کہیں ائے مادر

ہم ہیں غربت زدہ و بے وطن و خستہ جگر

ماں تو یثرب میں ہے کوفہ میں ہوئے قتل پدر

باپ ہوتا تو یہ دکھ کا ہے کو پڑتا ہم پر

دو دو دن تک نہیں غربت میں غذا ملتی ہے

نہ تو موت آتی ہے نہ امن کی جاملتی ہے تو نے رو رو کے جو احوال ہمارا پوچھا

ماں کی شفقت ہمیں یاد آ گئی اِس دم بخدا

صاحبِ درد ہے دیوے تجھے اللہ جزا

گر کے قدموں پہ پکاری کہ یہ لونڈی ہو فدا

سمجھی میں برجِ امامت کے ستارے ہو تم ہے غضب مسلمِ مظلوم کے پیارے ہو تم

طاعتِ حق سے یتیموں نے جو فرصت پائی ما حضر سامنے دونوں کے ضعیفہ لائی

دن تو راحت سے کٹا شام مصیبت آئی

سو گیا حجرے میں بھائی سے لپٹ کر بھائی

نصفِ شب تھی کہ وہ ملعون و بد انجام آیا نیند یاں آئی وہاں موت کا پیغام آیا

کہہ کے یہ غصہ میں بستر پہ گرا وہ غدار

آگیا خوابِ اجل دشمنِ دیں کو اک بار واں قضارا ہوئے حجرے میں وہ لڑکے بیدار

چھوٹے بھائی نے بڑے سے یہ کہا با دلِ زار

خواب میں سیدِ لولاک کو دیکھا میں نے ابھی بابا کے رخِ پاک کو دیکھا میں نے

رو کے اُس دم یہ بڑے بھائی نے چھوٹے سے کہا میں نے واللہ یہی خواب ابھی دیکھا تھا

کہہ کے یہ روئے گلے مل کے بصد آہ و بُکا

آمدِ مرگ ہوئی خواب سے حارث چونکا پوچھا مادر سے یہاں آہ و بکا کیسی ہے

گھر کے حجرے میں یہ رونے کی صدا کیسی ہے

بولی گھبرا کے ضعیفہ تجھے اِن باتوں سے کیا

سو بھی رہ تو کوئی ہمسایہ میں روتا ہوگا ننگی تلوار کئے ہاتھ میں ظالم اُٹھا

جا کے دالان کے دروازے کو جلدی کھولا

در کے کھلتے ہی عجب طرح کا عالم دیکھا ایک گھر میں مہ و خورشید کو باہم دیکھا

تیغ اُٹھا کر یہ کہا کس کے ہو تم نورِ نظر

ڈر کے وہ بولے کہ ہم دونوں ہیں مسلم کے پسر تیرے مہمان ہیں تلوار علم ہم پہ نہ کر یہ سخن سنتے ہی دوڑا وہ لعیں بد اختر

دونوں بچوں پہ جھکا تیغِ جفا جو پکڑے ایک کا ہاتھ اور اک بھائی کا گیسو پکڑے