غربت میں کس نے کی ہے رفاقت حسین کی
سب سے سوا ہے کس کو محبت حسین کی کس کی نظر میں فرض ہے طاعت حسین کی تکمیل کس سے پائی شہادت حسین کی ہے کون یادگار علی و بتول کی وہ کون ذی شرف ہے نواسی رسول کی
زہرا کے بعد کون ہیں مخدومہ جہاں
بابا ہے کس کا شیرِ خدا فخرِ مُرسلاں
دنیا میں کس کے صبر کے قائل ہیں انس و جاں
چادر ہے کس کی کشتیٔ اُمت کا بارباں مریم سے کس کا مرتبہ اعلیٰ ہے خلق میں مشہور کون ثانیٔ زہرا ہے خلق میں نانا کو روئی باپ کو روئی وہ ذی وقار ماتم کیا بتول کا با چشمِ اشکبار محسن کی لاش دیکھ کے دل ہو گیا فگار
برسوں رہی مصیبتِ شبر میں سوگوار
بچپن سے شغل اُس کو رہا شور و شین کا
آخر کو دیکھا زیبِ سناں سر حسین کا پُرسہ عجیب زینبِ ناشاد کو ملا
شبیر قتل ہوتے ہی خیمہ جلا دیا
سر سے اُتاری شمر نے معصومہ کی ردا
بازو ہر ایک بی بی کا رسی میں بندھ گیا
بلوئے میں لائے بنتِ شہ مشرقین کو
دل بھر کے رونے پائی نہ زینب حسین کو
بابا کو روئے بچے تو زینب انھیں منائے
سمجھا کے اپنی گود میں شب کو اُنہیں سلائے
سیلی کسی یتیم کو آکر کوئی لگائے
یہ دیکھ کر خموش ہو شکوہ نہ لب پہ لائے
بھائی کے سر کے ساتھ رہی اِژدھام میں
سر ننگے جائے کوچہ و بازارِ شام میں
زنداں سے چھٹ کے آئی جو زینب سوئے وطن
روتی تھی جا کے نانا کے روضے پہ خستہ تن گہ فاطمہ کی قبر پہ کرتی تھی یہ سخن
برباد کربلا میں ہوا آپ کا چمن
شکوہ نہ قید کا تھا نہ بازارِ شام کا تھا ذِکر بس حسین علیہ السلام کا کچھ دن رہی وطن میں جو زہرا کی یادگار پر تھی بہت حسین سے ملنے کو بے قرار تھا دشمنِ امام یزیدِ ستم شعار
عابد ہوئے جو قید دوبارہ بحالِ زار
ممکن نہ تھا کہ منھ رہے الفت میں موڑ کے
زینب رہے وطن میں بھتیجے کو چھوڑ کے پہونچی قریب شام کے جس وقت خوش نہار
آنے لگی زیادہ شہ بے کفن کی یاد
اک رات آئی جس میں کہ دل کی ملی مراد مژدہ اجل کا خواب میں سنکر تھی شاد شاد
تھی گر چہ اس کے دل کو خوشی اِنتقال کی پر فکر تھی تو عابدِ برگشتہ حال کی گزری وہ رات صبح شہادت ہوئی عیاں
جس باغ میں ہوا تھا فروکش وہ کارواں
دشمن نبی کی آل کا تھا اُس کا باغباں
زیرِ شجر جو روتی تھی شہ کو وہ نیم
جاں ایسا ستم کیا کہ نہ پھر شہ کو روسکی یوں بیلچے سے مارا کہ جانبز نہ ہوسکی