Kanz e Aza

روانہ نہرِ لبن کو جو شیر خوار ہوا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

روانہ نہرِ لبن کو جو شیر خوار ہوا

زباں دکھانے پہ گردن سے تیر پار ہوا تڑپ کے ہاتھوں پہ حضرت کے ہمکنار ہوا

خزاں ہوا جو وہ گل تو گلے کا ہار ہوا اِدھر تو شاہ کو یہ صدمۂ جگر پہنچا اُدھر مدینہ سے صغرا کا نامہ بر پہنچا لہو میں غرق کھڑے تھے کمر جھکائے ہوئے پسر کی ننھی سی میت گلے لگائے ہوئے لہو بھرا ہوا دامن اُسے اُڑاھائے ہوئے کفن کی فکر میں خیمے کو منھ پھرائے ہوئے یہ حال دیکھ کے قاصد کی آس ٹوٹ گئی ہوا یہ رعشہ کہ فوراً مہار چھوٹ گئی اُتر کے ناقے سے آداب وہ بجا لایا مگر حسین تھے بے ہوش کچھ نہ فرمایا وہ نوحہ پڑھتا ہو اور متصل آیا نگاہ یاس سے منھ دیکھ کر یہ چلایا

قرار دو مجھے میں بیقرار ہوتا ہوں

حسین جان کے تم پر نثار ہوتا ہوں کہو بقیہ اولادِ مرتضٰی ہو تم امیرِ لشکرِ اللّہ و مصطفٰے ہو تم

غریبِ کوفہ و مظلومِ کربلا ہو تم

بتاؤ قاسمِ ناشاد کے چچا ہو تم

جواب دو پدرِ نامرادِ اکبر ہو

جنابِ حضرتِ عباس کے برادر ہو

بہن ہے آپکی زینب سکینہ دختر ہے ہراول آپکے لشکر کا حُرِ صفدر ہے وطن میں بھی کوئی بیٹی علیل و ششدر ہے

حضور کا کوئی ننھا سا لال اصغر ہے

زہیر اور حبیب آپ کے مصاحب ہیں

جناب عون و محمد کے ماموں صاحب ہیں

حسین بھر کے دم سرد بولے ائے غمخوار امیر کون ہے میں تو ہوں بیکس و ناچار کہاں ہیں اکبر و قاسم کہاں علمبردار

خدا کے بندے تھے یہ سب ہوئے خدا پہ نثار

سپاہِ ظلم نے تنہا سمجھ کے گھیرا ہے ہزاروں تیغیں ہیں اور ایک حلق میرا ہے ہٹائی چہرے سے اصغر کے خوں بھری چادر پسینہ موت کا ماتھے سے پونچا سرتا سر پکارے مردے کی آنکھوں پہ ہونٹوں کو رکھ کر لکھی ہے فاطمہ نے دیدہ بوسیٔ اصغر گواہ رہیو کہ فاقے سے جُھومتا ہے حسین اور اُنکے بھائی کی آنکھوں کو چومتا ہے حسین

بنالوں ننھی سے قبر انکی ائے خجستہ سیر تو لے چلوں پسرِ نوجواں کے لاشے پر تو پڑھیو لاشۂ اکبر پہ نامۂ خواہر

یہ کہہ کے گھوڑے سے اترے امامِ جن و بشر

زمین قبر کی خاطر پسند کرنے لگے مزار کھود کے نالے بلند کرنے لگے

لہو سے غسل تو اصغر کو دے چکی تھی قضاء

ِملی بہ صورتِ کافور شہ نے خاک شفاء اُتارا قبر میں اصغر کا خوں بھرا لاشہ لٹا کے خاک پہ قبلہ کی سمت منھ پھیرا پھر اپنے چاند کو جب خاک میں چھپانے لگے تو یاعلی کہا اور ہاتھ تھرتھرانے لگے یہ حال دیکھ کے قاصد نے کی مددگاری لحد میں اُنگلیوں سے خاک ڈالی اک باری پکاری خیمے کے در سے یہ بانو دکھیاری یہ کسکی قبر کی ہوتی ہے رن میں تیاری

حسین بولے کہ صدمے نئے گزرتے ہیں تمھارے ہنسلیوں والے کو دفن کرتے ہیں گری زمیں پہ کلیجہ پکڑ کے وہ ناچار پکاری میری کمائی سے ائے زمیں ہشیار نہ مرده جانیو ہے میری جان یہ دلدار

زمین میں ترے صدقے ترے مکیں کے نثار

بہ زیرِ خاک میری منتوں کا باغ ملا تجھے یہ پھول ملا اور ہم کو داغ ملا

بلائیں دور سے لے لیکے پھر کیا یہ بیاں تمہاری ننھی لحد کی میں واری اصغر جاں اندھیرا گھر ہے نہ گھبرائیو یہ ماں قرباں اکیلے سونے کی مشکل خدا کرے آساں تمہارے چاہنے والے گلے لگائیں گے مجھے یقیں ہے جنابِ امیر آئیں گے