جب پریشاں ہوئی مولا کی جماعت رن میں ہر نمازی کو پسند آئی اقامت رن میں
قبلۂ دیں نے کیا قصدِ عبادت رن میں
شکلِ محراب بنی تیغِ شہادت رن میں
غل ہوا اِس کو امامِ دو جہاں کہتے ہیں تیغوں کے سایہ میں شبیر اذاں کہتے ہیں
قدرتِ حق سے دریچے ہوئے فردوس کے وا
دفعتاً کُھل گئے درہائے فلک سرتا پا یک بیک اُٹھ گئے سب پردۂ عرشِ اعلیٰ انبیا و ملک و حُور کو پہنچی یہ نِدا
قدرداں اس کا میں ہوں میرا شناسا ہے یہ کیوں نہ ہو میرے محمد کا نواسہ ہے یہ
یہ وہ طاعت ہے کہ تنہا ہی ادا کرتے ہیں میرے عاشق تہہِ شمشیر رہا کرتے ہیں
سر قلم ہوتا ہے وہ شکرِ خدا کرتے ہیں
صادق الوعدہ یونہی وعدہ وفا کرتے ہیں ہم نماز اس کے جنازہ کی جو پڑھوائیں گے تم بھی جانا کہ رسولانِ سلف جائیں گے
ساکنِ عرشِ بریں کرنے لگے نالہ و آہ
شاہ تکبیر یہاں کہہ چکے اللّه اللّه اور اقامت میں ہوئے صَرف شۂ عالی جاہ
جانِ واحد پہ گرے آن کے لاکھوں بدخواہ
سورۂ حمد نبی زادہ پڑھا چاہتا تھا
شمر خنجر لئے سینہ پہ چڑھا جاتا تھا نیم بسمل نے زباں سے جو کہا بسم اللّه نیزه مارا ابو ایوب نے لب پر ناگاه
در سے سیدانیاں چلائی کہ اِنا اللّه ہائے یہ ظلم نمازی پہ عیاذاً باللّه واجب القتل کو ہے آب و غذا کی مُہلت
جانِ زہرا کو نہ دی فرضِ خدا کی مُہلت
زِینتِ عرشِ بریں خاک پہ اُفتادہ ہے نہ بچھونا ہے نہ مسند ہے نہ سجادہ ہے
شمر خنجر لئے بالیں پہ اِستادہ ہے کوئی اتنا نہیں کہتا کہ نبی زادہ ہے
قصد سجدۓ کا اِدھر قبلۂ دیں کرتا ہے نیتِ ذبح اُدھر شمرِ لعیں کرتا ہے
خنجرِ ظلم کو چمکا کے پکارا دشمن
بوسہ گاهِ نبوی کاٹوں میں اب یا گردن
بولے شہ جس میں تو راضی ہو نہیں جائے سخن
حلق یہ حلقِ نبی ہے یہ بدن اُن کا بدن
دیکھ سر ننگے ہر اک حور و جناں آتی ہے ابھی تو ذبح نہ کرنا میری ماں آتی ہے ناگہاں آئی یہ آواز کہ اماں صدقے میرے ماں باپ فدا میں تیرے قرباں صدقے کون کون آج ہوا تجھ پہ میری جاں صدقے
شیر کتنے ہوئے کتنے ہوئے ناداں صدقے
قتل گہہ کو ابھی جنت سے جو میں آتی تھی
خور اک ننھے سے لاشے کو لئے جاتی تھی
قافلہ لُٹ گیا اماں میرا لشکر نہ رہا
جدِ اَمجد کی نشانی علی اکبر نہ رہا رہ گیا دردِ کمر ہائے برادر نہ رہا
اب خبر آپ نے لی آن کر جب گھر نہ رہا ایک میں ہوں سو مجھے قتل کی مُشتاقی ہے
بوسہ گاہِ نبوی کٹنے کو اب باقی ہے گُفتگو مادر و فرزند میں ہوتی تھی یہ آہ روتی تھی فاطمہ مشتاقِ شہادت تھے شاہ
آستیں غصہ سے قاتل نے چڑھائی ناگاہ
قہرِ جلاد پہ کی شاہ نے حسرت سے نگاہ
شمر نے پوچھا تمھیں عُذر کوئی اب تو نہیں
بولے شہ دیکھ لے دروازے پہ زینب تو نہیں وہ پکارا نظر آتی نہیں دَر پر زینب پیٹتی پھرتی ہے خیمہ میں کُھلے سر زینب گر سَراچوں سے چلی آئے گی باہر زینب روک سکنے کی نہیں پر میرا خنجر زینب
حلق کو آپ کے بے خوف و خطر کاٹوں گا ایک خنجر سے بہن بھائی کا سر کاٹوں گا
آئی زہرا کی صدا شمر تو نابینا ہے
در پہ زینب نہیں بالیں پہ مگر زہرا ہے ارے بے رحم خطا میرے پسر کی کیا ہے
آستیں اُلٹی ہے کیوں تیغ کو کیوں کھینچا ہے
کیا اِسے پالا تھا میں نے تیرے خنجر کے لئے میرے بچے کو نہ کر ذبح پیمبر کے لئے