Kanz e Aza

جب قتل کیا نہر پہ سقائے حرم کو

A marsiya. Lyrics in Urdu.

جب قتل کیا نہر پہ سقائے حرم کو

بھائی کا دیا داغ شہنشاہِ امم کو پانی نہ دیا پیاس میں اُس بحرِ کرم کو

تھا شور کہ اب خوف کسی کا نہیں ہم کو

غازی کو جگر بندِ ید اللّہ کو مارا

عباس کو کیا قتل کیا شاہ کو مارا

اعدا تو یہ کہتے تھے شہ دیں کا یہ تھا حال تر آنسوؤں سے ہوتا تھا رومال پہ رومال

ِفرماتے تھے کیا ہو گئے عباس خوش اقبال

دنیا میں نہیں جینے کا اب فاطمہ کا لال

بن بھائی بسر ہوگی نہ اک آن ہماری

عباس کے ماتم میں گئی جان ہماری

بیکس ہوئے اب کوئی نہیں ہمدم و یاور پائیں گے کہاں ایسا وفادار برادر

بر آئے کہیں آرزوئے سبطِ پیمبر

جلدی میری گردن پہ چلے ظلم کا خنجر

دشمن پہ بھی یہ عالمِ تنہائی نہ ہووئے

جینے کا مزہ خاک ہے جب بھائی نہ ہووئے یہ کہکے تڑپنے لگے سلطانِ دو عالم

برپا تھا عجب خیمۂ شبیر میں ماتم

چلاتی تھی زینب کے جگر پھٹتا ہے اِسدم

بھائی کے الم میں نہ جئیں گے شہ اکرم اَندھیر جہاں ہے جو علمدار نہیں ہے کوئی میرے بھائی کا مددگار نہیں ہے

سمجھا کے اُسے رن کو چلے جب شہ ابرار

دوڑی عقبِ شاہ سکینہ جگر افگار

چلائی کے بابا مجھے یاں چھوڑو نہ زنہار

ِدکھلا دو مجھے لاشۂ عباس علمدار

پانی نہ ملا مر گئے وہ خوں میں نہا کر میں روؤں گی اب لاشۂ عباس پہ جاکر

دیکھا جو اُسے شاہ نے بادیدۂ گریاں کہنے لگے بیٹی سے بصد نالہ و افغاں

ِمارے نہ کوئی تیر تمھیں دشمن ایماں

چلنا ترا لاشے پہ مناسب نہیں اس آں وہ کہتی تھی میں جی سے گزر جاؤنگی بابا واں لے کے نہ چلیئےگا تو مر جاؤنگی بابا

آخر اُسے دریا کی طرف لیکے چلے شاہ یوں کہنے لگے فوج سے بڑھکر کئی گمراہ کیا قصد ہے جاتے ہو کدھر اے شہ ذیجاہ

دریا پہ وہ مارے گئے تھی جنگی تمہیں چاہ پانی کے لئے لاکھ جوانوں سے لڑے ہیں اور ہاتھ کٹائے ہوئے ریتی پہ پڑے ہیں ناگاہ نظر آیا انہیں لاشۂ عباس

چلا کے کہا ہائے ہم اب ہو گئے بے آس

پہنچیں گے نہ تم تک یہی تھا بھائی کو وسواس اب کون بجھائیگا سکینہ کی بھلا پیاس ہاتھوں کے تصدق تنِ صد پاش کے صدقے اے جانِ برادر میں تری لاش کے صدقے

آنکھوں کو ذرا کھولو تو قربان ہو بھائی

خیمہ سے سکینہ تمھیں لینے کو ہے آئی کیوں ریت میں یہ چاند سی صورت ہے چھپائی

سر پیٹ کے تب کہنے لگی شاہ کی جائی ہے ہے مجھے صورت نہیں دکھلاتے ہیں عمو میں پیاسی رہی اس لئے شرماتے ہیں عمو تڑپی جو یہ کہہ کہہ کے سکینہ جگر افگار تھرانے لگا لاشۂ عباسِ علمدار لاشے سے لپٹ کر یہ پکارے شہ ابرار

صدقے تری الفت کے حسین ائے میرے غمخوار رونے نہ دیا تھا کبھی اس تشنہ دہاں کو تھراتے ہو اب سن کے سکینہ کی فغاں کو

خاتونِ قیامت کی صدا اِتنے میں آئی مارا گیا ہے ہے میرے شبیر کا بھائی

فرزند سے فرمایا یہ دے دے کے دہائی پرسہ تمہیں دیتی ہے یہ گردوں کی ستائی

شبر بھی بصد دردو بکا پیٹ رہے تھے لاشے کے قریں شیرِ خدا پیٹ رہے تھے یہ سن کے تڑپنے لگا عباس کا دلدار

چلایا کہ اب ہو گئے ہم بیکس و ناچار ہم جیتے رہے قتل ہوا شاہ کا غمخوار

تا حشر نہ اب دیکھیں گے ہم باپ کا دیدار

اس عمر میں کیا ظلم وستم ہو گئے ہے ہے

فریاد کہ بن باپ کے ہم ہو گئے ہے ہے