جب صدرزیں سے گر پڑے عباسِ باوفا
جنگل سے آئی گریۂ زہرا کی بھی صدا
اکبر نے دوڑ کر شہ والا سے یہ کہا
چلئے حضور نہر پہ مارے گئے چچا
بے دست دشمنوں نے کیا اُس دلیر کو
رو آئیے ترائی میں حیدر کے شیر کو
یہ سن کے پیٹتے ہوئے اُٹھے زمیں سے شاہ
فرمایا ہے غضب مرے بچے ہوئے تباہ
یہ کیا کہا کے آنکھوں میں دن ہو گیا سیاہ
مظلوم سے بچھڑ گئے عباس آہ آہ
مدت ہوئی تمام سکینہ کے چین کی
توڑا فلک نے آج کمر کو حسین کی
یہ کہہ کے سوئے نہر چلے شاہِ کربلا
مانندِ بید کانپتے تھے شہ کے دست و پا
عمامہ تھا نہ فرق پہ نے دوش پر رِدا
تصویر وار تھے ہمہ تن سبطِ مصطفٰے
مقتل کی خاک سے تنِ انور اَٹا ہوا
سینہ کُھلاہوا تھا گریباں پھٹا ہوا
پہنچے جونہی ترائی میں بادیدۂ پُر آب
دیکھا تپاں ہے خاک پہ فرزندِ بوتراب
شانوں پہ کی نظر تو جگر کو رہی نہ تاب
بس ہائے بھائی کہکے گرا وہ فلک جناب
بیکار دست و پا تھے شہ خوش خصال کے
لے آئے لاش تک علی اکبر سنبھال کے
منھ رکھ کے خوں بھرے ہوئے چہرے پہ دی صدا
بھیا حسین آیا ہے آواز دو ذرا
ہیہات دونوں ہاتھ بدن سے ہوئے جدا
بازو کے صدقے اِن تیرے شانوں کے میں فدا
بھیا ہمارے ہاتھ تو بیکار ہو گئے
تم ہاتھ کھو کے جعفرِ طیار ہو گئے
منھ رکھ کے منھ پہ کہنے لگے شاہِ خوش خصال
عباس میں کن آنکھوں سے دیکھوں ترا یہ حال
اِس دم بھی ہے تمہیں مرے آداب کا خیال
جب ذبح ہونگے ہم تو کسے ہوئےگا ملال
صدقے حسین تیرے تنِ پاش پاش کے
اک بار ہم کو گرد تو پھر نے دو لاش کے
سن کر صدائے حضرتِ شبیر نامدار
کھولا لہو بھری ہوئی آنکھوں کو ایکبار
سر رکھ کے پائے شہ پہ یہ بولا وہ ذی وقار
تشریف آپ لائے زہے عزو اِفتخار
جی چاہتا ہے یہ کہ نثارِ حضور ہوں
کس طرح اُٹھ کے گرد پھروں چور چور ہوں
بیٹھے ہیں آپ اور میں لیٹا ہوں آہ آہ
کیا دور ہے حضور اگر بخش دیں گناہ
سر شق ہے ضربِ گرز سے یاشاہِ دیں پناہ
کروٹ بھی اب تو لے نہیں سکتا ہے خیر خواہ
دُکھتے ہیں بولنے میں جراحت پھٹے ہوئے
دیکھیں حضور میرے ہیں بازو کٹے ہوئے
یہ سن کے اُس دلیر نے اک سرد آہ کی
مشکیزہ پہ تڑپ کے بہ حسرت نگاہ کی
منھ شرم سے چھپا لیا گودی میں شاہ کی
حالت تباہ ہوگئی حیدر کے ماہ کی
جب دل کو بیکلی ہو تو کس طرح کل پڑے
زانو پہ شہ کے آنکھوں سے آنسو نکل پڑے
فرمایا شہ نے کس لئے روتے ہو زار زار
لو اب کچھ اپنا حال کہو تم پہ میں نثار
کیا جی پہ ہے بنی جو تڑپتے ہو بار بار
کی عرض اُس جری نے کہ ہے وقتِ احتضار
آقا سے چھوٹنے کا قلق ہے غلام کو
پاؤ نگا اب کہاں شہ گردوں مقام کو
یہ کہتے تھے کہ پھر گئی آنکھوں کی پتلیاں
ہچکی کے ساتھ آگئی سوکھے لبوں پہ جاں
حسرت سے دیکھ کر طرفِ شاہ انس و جاں
دنیا سے کوچ کر گئے عباسِ نوجواں
چھوڑا جری نے ساتھ شہ مشرقین کا
اک غل اُٹھا کہ مرگیا عاشق حسین کا
چلاتی ہیں یہ زوجۂ عباسِ نامور
چھوڑو مجھے خدا کے لئے پیٹنے دو سر
وارث میرا گزر گیا لوٹا اجل نے گھر
ہے ہے یتیم ہو گئے دونوں مرے پسر
پردیس میں علی کے پسر سے بچھڑ گئی
اب خاک اُڑانے دو کہ مری مانگ اُجڑ گئی