Kanz e Aza

فاطمہ کبریٰ دخترِ شبیر

A marsiya. Lyrics in Urdu.

فاطمہ کبریٰ دخترِ شبیر

خوش ہوئی تھی کہ ہو گئی دِلگیر

عقد کے دن اُلٹ گئی تقدیر تیری شادی ہے خون سے تحریر

شادمانی نہ کچھ خوشی دیکھی

غم سے بھر پور زندگی دیکھی

ٰتو نے شادی میں فاطمہ کبری

ساتھ جوڑوں کے ایک رنڈ سالہ

سب سے پہلے جہیز میں پایا کیا بَیاں ہو بھلا ترے غم کا

غم کی تمہید بن گئی شادی کیا نرالی ہوئی تری شادی اے شہ کربلا کی شہزادی تھی یہ شادی کہ تیری بَربادی

غم کا عَنواں بنی تری شادی تیری قِسمت ہے تجھ پہ فریادی کمسِنی میں نصیب پھوٹ گیا تجھ پہ غم کا پَہاڑ ٹوٹ گیا تو نے پہنا دولہن کا تھا جوڑا یا کہ پہنَا تھا تو نے رنڈ سالہ

چند لمحوں میں ہائے کیا یہ ہوا اُٹھ گیا سَر سے سایہ وارث کا

دولھَا رن میں جو مر گیا تیرا

سر سے گھونگھٹ اُتر گیا سارا تیرے خیمے میں جب کہ آگ لگی

جَل گیا حجلۂ عروسِی بھی کیا بتاؤں کہ کیسی لوٹ مچی

سَر سے چادر بھی چھن گئی تیری

دل میں ارمان گھٹ گئے سارے تیرے زیور بھی لٹ گئے سارے رن سے دُولہا کی لاش جب آئی تیرے چہرے پہ بیوَگی چھائی تو نہ فرط حیَا سے رو پائی تجھ کو تقدیر دن یہ دِکھلائی نَوشہِ پاش پاش کے ٹکڑے تو نے دیکھے ہیں لاش کے ٹکڑے

فاطمہ کُبریٰ اے اسیرِ محن تجھکو بیوہ کہوں میں یا کہ دُولہن

چھین کر تیرے ہاتھوں سے کنگن

باندھی تھی ظَالموں نے کَس کے رسن

زخم پر زخم تجھ کو ملتے تھے تیرے پہونچے رسن سے چھلتے تھے تازیانے وہ پشت پر کھانا ایسی حالت میں دل کو سمجھانا منھ کا بالوں سے پردہ فرمانا تیرا دربارِ شام میں جانا یاد جس وقت ہمکو آتا ہے

خوں کے آنسو ہمیں رُلاتا ہے تیری شادی کا غم ہے تازہ جو ہے عقیدت کی انتہا یہ تو

آج تک ساتویں محرم کو کالے کپڑے پہن کے سب دیکھو

سر پہ مہندی اُٹھا کے لاتے ہیں تیری شادی میں رونے آتے ہیں

زندگی بھر اُٹھائے تو نے محن اپنے دولہا کو دے سکی نہ کفن تیرا غربت میں بن گیا مدفن پیٹ کر سر پڑھو یہ بیت حسن

سہہ کے صدمے گزر گئی ہے ہے

فاطمہ کبری مر گئی ہے ہے