روتے تھے دھاڑیں مار کے ناموسِ شاہِ دیں
آیا دلھن سے ملنے کو شبر کا نازنیں
روتی تھی سر کو زانو پہ رکھے وہ مہہ جبیں
صدمے سے ہل گیا جگرِ قاسمِ حزیں
دل تھام کر سوئے رخِ کبرا نگاہ کی
یہ درد اُٹھا کے بیٹھ کے مسند پہ آہ کی
رکھ کر دلھن کے ماتھے پہ ہاتھ اپنا یوں کہا
سر کو اُٹھاؤ روتی ہو کیوں تم پہ میں فدا
صاحب تمھارے باپ نے تو ہم کو دی رضا
دو تم بھی اذنِ جنگ کہ نرغے میں ہیں چچا
آتے ہیں تیرِ ظلم شۂ خوش خِصال پر واللّه جائے رحم ہے عمو کے حال پر ابنِ حسن نے باتوں میں گھولا بہت مگر
قفلِ دہن حیا تھی نہ بولی وہ نوحہ گر
دولھا نے جبکہ رکھ دیا جھک کر قدم پہ سر پہلو میں دل تڑپ گیا پھٹنے لگا جگر گھونگھٹ میں آفتاب سا منھ زرد ہو گیا کانپی یہ شرم سے کہ بدن سرد ہو گیا آخر بہا کے اشک یہ بولی وہ رشکِ ماہ لُٹتے ہیں بچپنے میں کہیں کیا زباں سے آہ
چھوڑا جب آپ نے تو ہمارا کہاں نباہ
قسمت میں تھا کے قیدِ ستم میں پھریں تباہ
بستی لُٹا کے قبر کو آباد کیجئے
جو آپ کی خوشی ہمیں برباد کیجئے
صاحب تمھیں خفا نہیں لونڈی سے اِسقدر
بیزار موت بھی ہے کہ اب تک نہ لی خبر کیا بس ہمارا خیر سدھارو کرو سفر
نکلیں گے ہم بھی گھر سے کوئی دم میں ننگے سر
چالے ہمارے سب سے جُدا ہیں زمانے میں
تم ہو نگے قتل گاہ میں ہم قید خانے میں
بابا قریبِ مرگ چچا عازمِ سفر
بھائی گلا کٹانے پہ باندھے ہوئے کمر
جلدی تمھیں کہ خون میں پہلے ہو ہم ہی تر
ڈھونڈھوں بتاؤ کس کا سہارا میں نوحہ گر
دو کچھ جواب پاؤں پہ کیوں سر جھکاتے ہو اک رات کی دلھن کو کسے سونپے جاتے ہو
روکا ہے کس نے روتے ہو کا ہے کو اِسقدر مالک خدا ہے بیوؤں کی لےگا وہی خبر ہوجائےگی ہماری بھی ہر حال میں بسر
سمجھیں گے عمر بھر اِسی جنگل کو اپنا گھر
بھائی کی آس ہے ہمیں اب تو نہ باپ کی کاٹیں گے دکھ رنڈاپے کا تربت پہ آپ کی
پوچھے گا گر کوئی کہ ہے کس شخص کا مزار
تو کون ہے جو روتی ہے یوں ائے جگر فگار اس سے بھی یہ کہونگی میں باچشم اشکبار
شہزادہ ایک تھا یہ فلک قدر ذی وقار نو شاہ بن کے باغِ جہاں سے گزر گیا
سہرا بھی سر سے کھلنے نہ پایا کہ مرگیا
دولہا نے بھر کے آنکھوں میں آنسو کہا یہ تب کوثر پہ روزِ حشر ملونگا میں تشنہ لب
دادی کے ساتھ جب سوئے فردوس جاؤگی
جس جا حسین ہونگے وہیں ہم کو پاؤ گی رو کر پکاری ماں کہ میں قربان جاؤں آؤ نرغہ ہے شامیوں کا چچا کی مدد کو جاؤ
بیٹا بس اب دلہن کی محبت سے ہاتھ اُٹھاؤ لینا ہے باغِ خلد تو پھل برچھیوں کے کھاؤ
صدقے گئی عزیز نہ اپنا لہو کرو
جلدی گلا کٹا کے مجھے سرخ رو کرو
ٹپکا کے اشک آنکھوں سے بولا وہ نوجواں لو اماں جان خالقِ اکبر نگاہ باں
جب رن سے آئے لاشہ مجروح و خونچکاں اُس تہلکہ میں رکھیئے گا اپنی بہو کا دھیاں روئیں تو آنسو پونچھ کے سمجھائیو انہیں اماں ہماری لاش نہ دکھلائیو انہیں