رن میں اَبرو کماں کی آمد ہے اصغرِ بے زباں کی آمد ہے
بھوکے کی ناتواں کی آمد ہے پیاسے کی نیم جاں کی آمد ہے یہی خیمہ میں شورا ہوتا ہے وعدہ اِن کا بھی پورا ہوتا ہے پیاس نے کر دیا ہے یہ عالم
غش پہ غش آتے ہیں اِنہیں پیہم ہلتے ہیں ہاتھ پاؤں بھی کم کم
سینہ میں اب نہیں سماتا دم
غم سے ماتم زدوں کو سکتا ہے ننھا سید پڑا سِسکتا ہے رو نہیں سکتے منھ بناتے ہیں
آنکھیں اُلٹی ہوئی پھراتے ہیں
خشک کام و زباں دکھاتے ہیں
غل سے رونے کے سہمے جاتے ہیں منھ کھلا ہے دھڑکتی چھاتی ہے
سانس بھی اب اٹکتی آتی ہے
سینہ گرمی کے مارے جلتا ہے ننھا سا دل پڑا اچھلتا ہے
دم بدم رنگ کو بدلتا ہے
بس نہیں کچھ کسی کا چلتا ہے نام پانی کا سب جو لیتے ہیں منھ کو گھبرا کے کھول دیتے ہیں رو کے کہتی ہے بانوئے دلگیر میں کدھر جاؤں کیا کروں تدبیر ہائے بچے میرے تری تقدیر نہ تو پانی ملا تجھے نہ شیر
حال جب دیکھتی ہے بس زینب کہتی ہے یا علی مدد زینب ہائے کیا وقت ہے پڑا ہم پر کرنے پائے نہ ماتمِ اکبر ہوئی در پیش رحلتِ اصغر اب میں نکلونگی اوڑھ کر چادر لشکرِ شام پاس جاؤں گی
حال بے شیر کا سناؤں گی کہوں گی جاکے ہوں میں سیدانی
دیکھو مرتا ہے یہ مرا جانی تشنگی کی ہے اِس پہ طغیانی واہ کیا خوب کی ہے مہمانی کرو سیراب لال کو میرے پانی دو نونہال کو میرے
خیمہ میں آئے سرورِ عالم
جھولے سے لائے بے زباں کو حرم
شہ نے دیکھا کہ ہے لبوں پر دم رو کے اِرشاد یہ کیا پیہم میرے جانی مرے جگر آؤ
چلو میداں کی سیر کر آؤ کہہ کے یہ روئے سرورِ ذیجاہ لیا ہاتھوں پہ اپنا غیرتِ ماہ کیا پنہاں عبا میں خاطر خواہ اور کہا لا اله الا اللّه لے کے پیاسے کو اشکبار چلے پشت خم کر کے بے قرار چلے رو کے کہنے لگے امامِ غیور
غافلو کچھ نہیں ہے تم کو شعور تم سمجھنا نہیں خدا کو دور میرے بچے کا کچھ نہیں ہے قصور
بے گناہ کی نہ جان لو یارو میرے کہنے کو مان لو یارو
ظالمو واسطہ پیمبر کا
دم نکلتا ہے میرے دلبر کا تر کرو حلق میرے اصغر کا
جام دونگا میں تم کو کوثر کا
حرملہ بولا آب ملتا ہے
ٹہرو ٹہرو جواب ملتا ہے
بولے کرتا ہے کیا غضب ظالم مارتا کیوں ہے بے سبب ظالم پانی مانگیں گے ہم نہ اب ظالم
سنتا تھا شہ کا کہنا کب ظالم تیر اَبرو کمان کو مارا
چھ مہینے کی جان کو مارا