Kanz e Aza

دشت غربت میں وطن سے شہِ دیں جاتے ہیں

A marsiya. Lyrics in Urdu.

دشت غربت میں وطن سے شہِ دیں جاتے ہیں

ساتھ سب غنچہ دہن ماہِ جبیں جاتے ہیں

غل ہے کنعانِ امامت کے حَسیں جاتے ہیں

خاک ہونے کیلئے عرش نشیں جاتے ہیں گلشنِ بادِ شہِ قلعہ شکن لٹتا ہے

جس میں جنت کی فضا تھی وہ چمن لٹتا ہے

حرمِ شہ میں ہے فریاد و بکا سے کہرام

بی بیاں آئی ہیں رخصت کو محلے کی تمام

ذکر یہ تھا کہ شہِ یثرب و بطحا آئے گھر میں مغموم و حزیں سیدِ والا آئے کہا مادر سے سکینہ نے کہ بابا آئے

بولی بیمار کے ہاں میرے مسیحا آئے

شہ نے زینب سے کہا اور قلق بڑھتا ہے

آؤ صغرا سے بھی رخصت ہو کہ دن چڑھتا ہے کہہ کے یہ آئے قریں فاطمہ صغرا کے امام کانپتے ہاتھوں سے بیٹی نے کیا اٹھ کے سلام

بولے چھاتی سے لگا کر یہ شہ عرش مقام

بیٹھو بیٹھو کہ بدن ضعف سے لرزاں ہے تمام

جو مقدر میں ہے وہ رنج نہیں ٹلتا ہے

تپ سے تم جلتی ہو غم سے مرا دل جلتا ہے کہہ کے یہ بیٹھ گئے پاس امامِ دوسرا

بعد الحمد پڑھی آپ نے صحت کی دعا اور بیمار کو چھاتی سے لگا کر یہ کہا

بیٹی تم گھر میں رہو ہے یہی مرضئی خدا

ساتھ لیتے جو توانا تمہیں پاتے بی بی ایسے بیمار سفر میں نہیں جاتے بی بی

گر کے بستر پہ یہ چلائی بصد آہ و فغاں ارے لوگو مجھے تھامو کہ چلی جسم سے جاں یک بیک پھر گئی قسمت یہ ہوا کیا ساماں ہائے بابا مجھے یاں چھوڑ کے جاؤ گے کہاں میری فرقت ہوئی کس طرح گوارا بابا

بے اجل آپ نے بیمار کو مارا بابا

ِنہ جۓ گی نہ جۓ گی یہ مریض رنجور

ہائے میں گھر میں رہوں اور ہوں سب پاس سے دور

چھوڑ دے بیٹی کو بابا یہ نیا ہے دستور

عفو کیجے کوئی صغرا سے ہوا ہو جو قصور

آتشِ رنج و الم سے نہ جلوں گی بابا کچھ ہو میں آپ کے ہمراہ چلوں گی بابا ہاتھ میں جوڑتی ہوں اب مرے اچھے بابا

پاؤں پر گرتی ہوں میں مجھ کو نہ چھوڑ و تنہا رحم کیجے مری منت پہ یہ لونڈی ہو فدا میری بیماری کا حضرت کو اگر ہے دھڑ کا اچھی میں ہولوں تو ہو یاں سے روانہ بابا یا میں دنیا سے گزر جاؤں تو جانا بابا

ِباتیں صغرا کی یہ سنتے تھے شہ کون و مکاں

آئے جو اتنے میں ہمشکلِ رسولِ دو جہاں

دیکھ کر بھائی کو بولی وہ بصد آہ و فغاں

آؤ بھیا علی اکبر میں تمہارے قرباں اپنا کچھ بس نہیں بابا تو ہمیں چھوڑ چلے تم بھی کیا خواہرِ ناشاد سے منہ موڑ چلے ہم تو مہمان کوئی دن کے ہیں جاؤ بھائی اب یقیں ہے کہ ہمیں آکے نہ پاؤ بھائی

بو مجھے زلف سمن بوکی سنگھاؤ بھائی لوں بلائیں میں ذرا پاس تو آؤ بھائی المِ ہجر میں دنیا سے سفر کرتے ہیں

کوئی حسرت تو نہ رہ جائے کہ ہم مرتے ہیں میرے عاشق مرے شیدا مرے پیارے بھیا تم پہ اس خستہ جگر کو کوئی وارے بھیا مجھ سے اب چھٹتے ہو صدقے میں تمہارے بھیا تم چلے اور ہے بہن گور کنارے بھیا پہلے تربت پہ میری اشک بہاتے نہ گئے

قبر بیمار کی یثرب میں بناتے نہ گئے

دیکھئے خیر سے اِس شہر میں کب آؤ گے

بھائی پھر چاند سی صورت ہمیں دکھلاؤ گے اپنی شادی میں بھی ناشاد کو بلواؤ گے

دیر سے آئے تو بہنا کو نہ پھر پاؤ گے

یہ وصیت ہے کہ تم گھر میں نہ جانا پہلے

سہرا لٹکائے میری قبر پہ آنا پہلے