دربار میں جب کٹ کے یتیموں کے سر آئے
ڈوبے ہوئے دو چاند لہو میں نظر آئے
غل پڑ گیا مسلم کے یہ لخت جگر آئے
غربت زدہ و بے وطن و بے پدر آئے
شمشیرِ ستم چل گئی اِن نوحہ گروں پر کیا بیکسی و یاس برستی ہے سروں پر
ِحاکم سے یہ تب کہنے لگا حارث بدکام
سر بچوں کے لایا ہوں ملے خلعت و انعام پہچان لے مسلم کے پسر ہیں یہی گلفام
یہ وہ ہیں جو زندان سے بھاگے تھے سرِ شام میں ڈھونڈھتا پھرتا تھا نہ ہاتھ آتے تھے دونوں پاتے تھے جدھر راہ نکل جاتے تھے دونوں
حاکم نے کہا تو نے کہاں پھر اِنھیں پایا تاریکیٔ شب میں نظر آتا نہیں سا یہ
وہ جوڑ کے ہاتھوں کو سخن لب پہ یہ لایا
زوجہ نے میری تھا انھیں حجرے میں چھپایا
میں کہتا تھا دل میں کہ کہاں جا کے چھپے ہیں
اِس کی نہ خبر تھی مرے گھر آ کے چھپے ہیں
از بس کہ تھکا تھا مجھے نیند آگئی اس دم کیا دیکھتا ہوں عالمِ رویا میں بصد غم اک حجرے میں دو طفل نظر آتے ہیں باہم
سر پیٹ کے کہتے ہیں وہ بادیدۂ پرنم
آفت میں پھنسے ہم درِ زنداں سے نکل کے معلوم ہوا پڑ گئے پھندے میں اجل کے
چلائے جو وہ ہائے پدر کہہ کے دل افگار تھا نیند میں یا آنکھ مری کھل گئی اکبار
خوش ہو گیا میں طالعٔ خفتہ ہوئے بیدار
بستر سے اُٹھا ہاتھ میں کھینچے ہوئے تلوار اک حجرے میں مسلم کے وہ پیارے نظر آئے
بالائے زمیں عرش کے تارے نظر آئے
جکڑا جب انھیں میں نے تو کرتے تھے یہ فریاد مہماں ترے گھر آئے ہیں ہم بیکس و ناشاد
بن باپ کے ہیں ہم پہ ترس کھا ستم ایجاد لے منتیں کرتے ہیں تری چھوڑ دے جلاد کر رحم کہ معصوم ہیں دکھ پائے ہیں ظالم ہم چھپنے کو دامن میں ترے آئے ہیں ظالم
میں نے کہا تم دونوں کے بابا کا ہے کیا نام روکر کہا کہتے ہیں انہیں مسلمِ ناکام
بے جرم و خطا اُن کے گلے پر چلی صمصام
ہم جب سے چھٹے باپ سے ہم کو نہیں آرام
دہشت سے تری سینے میں دل ہلتے ہیں ظالم اب ڈھیلی رسن کر کے گلے چھلتے ہیں ظالم یہ سنتے ہی معصوموں پہ غصہ مجھے آیا
حجرے سے انھیں کھینچتا دالان میں لایا ان دونوں نے جو ظلم نہ دیکھا تھا دکھایا مجرم کی طرح باندھ دیا رحم نہ کھایا
باہر انھیں لے آیا جو زلفوں کو پکڑ کر اِستادہ کیا چوب سے رسی میں
جکڑ کر
سمجھا نا وہ ہرگز نہ مرا دھیان میں لائی
جھنجھلا کے اسے تیغ ستم میں نے لگائی اک وار میں ساعد سے گری کٹ کے کلائی
چلا کے لگی دینے پیمبر کی دُھائی ہے ہے مرے آقا مری امداد کو پہنچو اے شاہِ غریباں مری فریاد کو پہنچو
جب مار چکا اُس کو تو معصوموں کو کھینچا پکڑے ہوئے زلفیں انھیں لا یا لبِ دریا روکر کہا بچوں نے ہمیں قتل نہ کرنا مارے گا جو ہم کو ترے کیا ہاتھ لگے گا
بیکس ہیں مسافر ہیں اور آوارہ وطن ہیں یہ کیا ہے سزا کم کہ گرفتارِ محن ہیں کر رحم ستمگار غریبی پہ ہماری
دیوے گا صلہ اِس کا تجھے خالق باری لے آنکھ نہ دکھلا نہیں اب کرنے کے زاری
چل کر سرِ بازار ہمیں بیچ لے ناری
بچ جائینگے ہم خلعت و زر پائیگا ظالم گر قتل کیا ہم کو تو پچھتائے گا ظالم یہ سن کے بڑھا میں جونہی کھینچے ہوئے تلوار پہلو میں برادر کے برادر گرا ایکبار میں چھاتی پہ اک طفل کی آخر ہوا سوار
ِجب حلق پہ بچے کے رکھا خنجر خونخوار اک حشر بپا ہو گیا خنجر کے چلے پر
بھائی نے گلہ رکھدیا بھائی کے گلے پر