جب گل ہوا چراغِ حرم قیدِ شام میں یعنی سکینہ مرگئی یادِ امام میں
دیکھے ستم یزید کے دربارِ عام میں
شہ کے سلام کو گئی دارالسلام میں
دنیا میں دادرس نہ ملا داد خواہ کو
جاکر نشاں طمانچوں کے دکھلائے شاہ کو
غل پڑ گیا حسین کی عاشق نے کی قضا
بانو نے نبض دیکھی تو پایا نہ دم ذرا
چلائی صدقہ جاؤں مجھے دے گئیں دغا اپنی کہی نہ میری سنی ہائے کیا کیا اصغر کو کچھ پیام بھی میں نے دیا نہیں تم چل بسیں اور اماں نے رخصت کیا نہیں
بابا کی پیاری اماں کی پیاری زباں کو کھول لائی ہوں شربت اۓ میری پیاسی دہاں کو کھول ماں رو رہی ہے دیدۂ گوہر فشاں کو کھول مہماں بندھے گلے سے نہ جا ریسماں کو کھول
دادی کڑ ہیں گی بی بی کی زلفیں سنوار لوں لو اُٹھو یہ پھٹا ہوا کُرتا اُتار لوں اصغر کی بھولی باتیں سناؤ نثار ماں اکبر کا ذکر کر کے رلاؤ نثار ماں
سیلی کا نیل ماں کو دکھاؤ نثار ماں
بابا کو جا کے در پہ بلاؤ نثار ماں ماتم کے غُلغُلے ہیں نہ رونے کے جوش ہیں
بی بی جو اب خموش ہے تو سب خموش ہیں منھ ڈھانپنے کا وقت ہے پچھلا پہر ہوا
بابا کو تیرے روتی ہوں اُٹھ ساتھ دے مرا
کُرتے سے منھ کو ڈھانپ کے پہلو میں بیٹھ جا اماں کی بیٹی اماں کو آواز دے سنا ماتم سرا یہ گھر تھا ترے بین کرنے سے
زندان سونا ہوگیا بی بی کے مرنے سے یاں کس کے پاس رہتی شہ کربلا نہیں
بی بی کے ناز اٹھانے کی خاطر چچا نہیں نادار ماں ہے پانی نہیں اور غذا نہیں پر اب کفن کے واسطے مطلق ردا نہیں اماں کے پاس رہنے سے ایذا اُٹھا چکیں
بی بی طمانچے کھا چکیں گردن بندھا چکیں
سہواً کیا ہے بی بی پہ غصہ کبھی اگر
صدقے پدر کی پیاس کا بانو کو عفو کر
رونے نہ دیتی تھی جو تمہیں یاں میں نوحہ گر
قربان جاؤں شمرِ لعیں کا تھا مجھ کو ڈر
میں تو یہ کہہ رہی ہوں کہ تقصیر بخش دو تم بھی کہو کہ اماں مجھے شیر بخش دو
تم نے جو شام سے مرے زانو پہ سر دھرا
میں سمجھی تھی کہ کانوں کا کچھ درد کم ہوا
آئی ہے آج سونے کو خود میری مہہ لقا اس درد لا دوا کی خبر تھی نہ مطلقا
آباد گود کی تھی مری خالی کرنے کو
سوئی تھی آج پاس مرے بی بی مرنے کو
در پیش تھی جو بی بی کو ملک عدم کی راہ ان روز ماں کا پیار زیادہ ہوا تھا واہ
کہتی تھی مجھ سے شام کو بھی ہوں گی تم تباہ
باور نہ مجھ کو آتا تھا اے نورِ چشم آہ
اب ماں سے تم بچھڑ گئیں کنبہ سے چھپ گئی
سمجھیں تھیں تم میں لٹ گئی واللّہ لٹ گئی اکبر جدا نہ ہوتے تھے بابا سے ایک دم اصغر سے اور تم سے بہلتا تھا میرا غم اب نا اُمید ہو گئے دونوں طرف سے ہم
دکھیارے میرے دکھ کے سدا کھائیں گے قسم تقدیر کیسی پھر گئی مجھ خستہ حال کی وہ چھ مہینے کے گئے تم چار سال کی
بانو کے بین سُن کے حرم روئے بے شمار
سُن کر یہ غل پکارا یزیدِ جفا شعار
بھجوایا شہ کا سر بھی اور ان کو نہیں قرار
آئی خبر کہ باپ پہ بیٹی ہوئی نثار ایسی کسی کی موت نہ ہوگی زمانے میں
سیدانی بے کفن ہے پڑی قید خانے میں مردے کا پردہ کرتا ہے ائے بانیٔ جفا مردہ جو شب کو دفن ہوا اس سے فائدہ اور بے حیا غریب کی میت کا اٹھنا کیا پروائے شامیانہ زرین نہیں ذرا
خیرات کو نہ لعل نہ یاقوت چاہئے ننھی سی قبر چھوٹا سا تابوت چاہئے