جب اِذن پانی لانے کا عباس کو ملا
بچوں کو جمع کر کے سکینہ نے یہ کہا
جاتے ہیں اب فرات پہ دیکھو مرے چچا کچھ دیر اور صبر کرو تم پہ میں فدا پانی کی میں سبیل یہاں پر لگاؤں گی اصغر کو سب سے پہلے میں پانی پلاؤں گی پیاسا ہے تین روز سے معصوم بے خطا پانی کا ایک قطرہ بھی اُسکو نہیں ملا
کرب و بلا کی دھوپ ہے اور گرم ہے ہوا
سوکھا ہوا ہے پیاس سے بے شیر کا گلا لب تر کرونگی اُن کے تو وہ مسکرائیں گے پھیلائے دونوں ہاتھوں کو گودی میں آئیں گے
ِیہ ذکر اِس طرف تھا اُدھر فوج نابکار
بادل کی طرح چھانے لگی پھر سے ایک بار اہلِ جفا سے بھر گیا میدانِ کار زار
چلا رہے تھے سارے جفا جو ستم شعار پانی پہونچ سکے نہ امامِ حسین تک مشکیزہ جاسکے نہ خیام حسین تک ناگاہ ایک وار کمیں گاہ سے ہوا
شانہ جری کا ہو کے جدا جسم سے گرا کچھ دور اور آگے بڑھے تھے کہ آہ آہ تیغ ستم سے دوسرا شانہ بھی کٹ گیا
دانتوں سے مشک تھام کے عباس رہ گئے
دریا لہو کے جسمِ مبارک سے بہہ گئے ایسے میں ایک تیر لگا آکے مشک پر مشکِ سکینہ چھد گئی تھرا گیا جگر پانی کے ساتھ بہہ گئے اُمید کے گہر
جھک کر علم نے گھوڑے کی باگوں میں دی خبر
سقائے اہلبیت کے شانے قلم ہوئے
بن بھائی کے جہان میں شاہِ امم ہوئے اکبر کی سمت دیکھ کے بولے شہ ہدیٰ
ٹوٹی کمر حسین کی ائے میرے دلربا
بیٹا ہمارا قوتِ بازو ہوا جدا لو ہو گیا حصارِ حفاظت شگافتہ
دل میں ہمارے نیزۂ رنج و ملال ہے
بھائی کے غم میں بھائی کا جینا محال ہے یہ کہکے حملہ ور ہوئے فوجوں پہ شاہِ دیں ہمشکلِ مصطفٰے نے اُلٹ دی جو آستیں تھرا گئی فرات لرزنے لگی زمیں
جانیں بچا کے بھاگ گئے رن سے سب لعیں پہونچے حسین تیزی سے بھائی کی لاش پر
حسرت برس رہی تھی تنِ پاش پاش پر
بھائی کے سر کو شاہ نے زانو پہ رکھ لیا
ِتھے پائینتی کھڑے ہوئے ہمشکل مصطفٰے پھر رو کے اپنے بھائی سے بولے شہ ہدیٰ
دیکھو حسین آیا ہے ائے جانِ مرتضیٰ اب آچکا ہے وقتِ جُدائی پکار لو
جانے سے پہلے بھائی کو بھائی پکار لو
آنکھوں کو اپنی کھول کے بولا وہ تشنہ کام
شرمندہ ہے سکینہ سے عباس یا امام لاشا اُٹھانے کا نہ کریں آپ اہتمام اب حشر تک رہے گا ہمارا یہیں مقام لِلّہ بخش دیجے شفاعت کے نام سے کوئی کمی ہوئی ہو اگر اِس غلام سے پھر شہہ کی سمت دیکھ کے عباس نے کہا
ِیہ سب کرم ہے آپ کا یا شاہ کربلا رِقت کا جوش بڑھ گیا گھٹنے لگا گلا
بھائی کے ایک لفظ میں تھا پورا مرثیہ
بھائی کہا تو روح بدن سے نکل گئی
زانو پہ شہ کے گردنِ عباس ڈھل گئی