بانو پے اور ایک مصیبت گزر گئی
صغرا غریب آج جہاں سے گزر گئی
بیمار فاقہ کش میری بیٹی تھی مرگئی مجبُر ماں کو چھوڑ کے دادی کے گھر گئی ائے جاں نثار کنبہ کی شہدا جواب دو
صغرا جواب دو میری صغرا جواب دو
بیمار اور اُس پہ یہ آفت ہے الّاماں
دوری پدر کی اور یہ فُرقت ہے الّاماں اصغر کی یاد اور یہ غُربت ہے ان الّاماں پر دیسوں کی یاد میں حسرت ہے الّاماں ائے جاں نثار کنبہ کی شہدا جواب دو
صغرا جواب دو میری صغرا جواب دو افسوس ہائے اور قیامت یہ ہوگئی
یادِ پدر میں آہ وہ گھٹ گھٹ کے مر گئی
سب حسرتیں لئے ہوئے ہم سے بچھڑ گئی روتے ہی روتے آہ وہ مظلوم مرگںٔی ائے جاں نثار کنبہ کی شہدا جواب دو
صغرا جواب دو میری صغرا جواب دو کب سے تمہے پکار رہی ہے یہ نیم جاں
دو کچھ جواب ماں کو تو ائے میری خستہ جاں
بن تیرے چین آئے نہ ماں کو نہ میری جاں ہے ہے مدینہ ہو گیا ویران میری جاں ائے جاں نثار کنبہ کی شہدا جواب دو
صغرا جواب دو میری صغرا جواب دو ماں کی مرادوں والی نہ مادر کو چھوڑے جاؤ اس بیکسو غریب کو بھی ساتھ لیتی جاؤ
بن تیرے ہوگی کسطرح میری بصر بطاؤ کس کس کا داغ دل پے سہونگی بتاتے جاؤ ائے جاں نثار کنبہ کی شہدا جواب دو
صغرا جواب دو میری صغرا جواب دو اچھا سدھارو خالقِ اکبر نگاہ باں
بابا کی پیاری کنبہ کی غمخوار میری جاں
بیوا غریب ماں کی پُر ارماں میری جاں
آرام سے لحد میں تو سوئے گی میری جاں ائے جاں نثار کنبہ کی شہدا جواب دو
صغرا جواب دو میری صغرا جواب دو
عابد کی جان کنبے کی تھی شان الوداع
علودا ائے لاڈلی غریبوں کی مہماں الوداع
دادی کی جان بانو کی دل دار الوداع اے نو گُلِ بہارِ گُلِ زار الوداع ائے جاں نثار کنبہ کی شہدا جواب دو
صغرا جواب دو میری صغرا جواب دو
عبّاسوں کا ائے میری بی بی سلام لو ہم سوگ نشینوں کا میری بی بی سلام لو ہم بیکسوں غریبوں کا بی بی سلام لو ہم خادموں کا ائے میری بی بی سلام لو ائے جاں نثار کنبہ کی شہدا جواب دو
صغرا جواب دو میری صغرا جواب دو