بانو سے دمبدم یہ سکینہ کا تھا بیاں کیسا مکان ہے کہ ہوا تک نہیں جہاں
ِدیکھوں گی کس طرح سے بھلا شکل آسماں ہے ہے زمین تک نظر آتی نہیں یہاں اماں سبھوں کی جان خدا ہی بچائیگا
شب کو بھی کیا چراغ جلایا نہ جاںٔیگا ایسی ہی تیرگی ہے تو بس ہو چکی حیات میں جانتی ہوں آج کی شب کو شبِ وفات
سوتے تھے لیکے سینے پہ بابا تمام رات
عادت میری بگاڑ گئے شاہِ خوش صفات
جب شمع گل ہوئی ہے تو گھبرا کے روئی ہوں اماں بھلا کبھی میں اندھیرے میں سوئی ہوں ماں بیٹی میں یہاں تھی غم انگیز داستاں
آئی پہر کے بجنے کی آواز ناگہاں ہوشیار بھائیو یہ پکارے نگاہ باں
بھاگے اسیر تو نہ بچے گی کسی کی جاں تڑپے دل اور حبس جو دہ چند ہو گیا
زنداں کا در لحد کی طرح بند ہو گیا تدبیریں ماں نے کیں پئے تسکیں عجب عجب
اس رات کی طرح سے بڑھا دم بہ دم تعب رونے میں کٹ گئی جو سکینہ کو نصف شب ناچار ہو کے گود میں لیٹی وہ خوش لقب
سُستی کمال خاطرِ نازک پہ چھا گئی
باتیں جو ماں نے کی تو ذرا نیند آگئی
سوئی تھی کوئی دم کے بندھا آنسوؤں کا تار
دیکھا یہ خواب آئے ہیں سلطانِ نامدار پھیلائے ہاتھ ڈھونڈھتی اُٹھی وہ دلفگار
جھک جھک کے دیکھتی تھی ہر اک سمت بار بار کہتی تھی ہے غضب کا اندھیرا ضیا نہیں
بابا کدھر کھڑے ہو مجھے سوجھتا نہیں تھے سب حرم یتیم کی باتوں پہ نوحہ گر روتے تھے پاسبان بھی منھ ڈھانپ ڈھانپ کر ناگاہ گئی یزید کو اس حال کی خبر مچلی ہوئی ہے دُخترِ سلطانِ بحروبر
فریاد کر رہی ہے عجب اضطرار ہے
بابا کو دیکھنے کے لئے بے قرار ہے لے جاؤ فرقِ شاہ یہ بولا سیاہ رو لے کر سرِ حسین روانہ ہوئے عدو تھی راہ میں چمک سرِ انور کی چار سو
زنداں کے پاس جا کے جو دی گیسوؤں نے بو
سیدانیوں میں حشر ہوا صف اُلٹ گئی
زنداں کے در سے آکے سکینہ لپٹ گئی
خوش خوش کھڑی ہوئی تھی سکینہ لگائے آس
اِتنے میں وا ہوا جو در آئی گلوں کی باس پھیلی ضیائے حسنِ شہنشاہِ حق شناس روشن ہوا مکان جو مدت سے تھا اُداس
دوڑے حرم حسین کی تسلیم کے لئے
سجاد اُٹھ کھڑے ہوئے تعظیم کے لئے
بیٹھی زمیں پہ لے کے سکینہ سرِ امام
غش آگیا کہ لائی قضا موت کا پیام لپٹی سرِ پدر سے کھینچی جب رگیں تمام
تھا منھ پہ منھ کے زیست کا نقشہ بدل گیا ہچکی بس ایک آئی وہیں دم نکل گیا کُرتا اُٹھا کے سینے کو دینے لگی ہوا
زینب سے کی یہ عرض کے پڑھئے کوئی دعا
سجاد سے کہا کہ ادھر آؤ میں فدا
بیٹا بہن کی نبض تو دیکھو مرض ہے کیا
چونکا رہے ہیں سب خبرِ دست و پا نہیں
غش میں کبھی یہ حال کسی کا سُنا نہیں
دیکھی جو نبض رونے لگے عابدِ حزیں ماں نے کہا تڑپ کے مجھے تاب اب نہیں
جو حال ہو خدا کے لئے کہہ چکو کہیں
سجاد سر جھکا کے یہ بولے کے مرگئیں تکلیف دیجیئے نہ تنِ پاش پاش کو
جلدی لٹائیے کہ اذیت ہے لاش کو
صدقے گئی ہوا اِس اندھیرے میں انتقال
بیٹی یہ داغ دل سے نہ جائے گا ماہ و سال
فضہ نے پاسبانوں سے جا کر کیا سوال
دے دو کوئی چراغ تو احسان ہے کمال ہو روشنی یہ رسم ہے سارے جہان میں میت پڑی ہوئی ہے اندھیرے مکان میں