Kanz e Aza

جس دم حسن کا زہر سے ٹکڑے جگر ہوا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

جس دم حسن کا زہر سے ٹکڑے جگر ہوا

سیپارہ دل کا آہوں سے زیر و زبر ہوا

سم کا جو روئے پاک پہ ظاہر اثر ہوا

حال اُس امامِ پاک کا اِس دم دگر ہوا راحت میں فرق اور شکم میں خلل پڑا کٹ کر کلیجہ طشت کے اندر نکل پڑا

بستر پہ دردِ دل سے تڑپنے لگے امام

صدمے سے سبز ہونے لگا روئے سُرخ فام

چلائے ہاتھ سے یہ کلیجے کو تھام تھام

دوڑو بہن کہ کام ہمارا ہوا تمام یہ کہتے کہتے زرد رُخِ پاک ہو گیا

چلاتے تھے کہ ہائے جگر چاک ہو گیا

دوڑیں جنابِ زینبِ بیکس برہنہ پا

دیکھا کہ لوٹتے ہیں بچھونے پہ مجتبٰی

بولی یہ سر کو پیٹ کے وہ غم کی مبتلا ہے ہے بہن نثار ہو بھائی یہ کیا ہوا کیا پھر کسی نے زہر دغا سے پلا دیا کس نے میرے کلیجے پہ خنجر چلا دیا تکیہ لگارہے تھے حرم جو اِدھر اُدھر

بازو کو تھام لیتی تھی کوئی تو کوئی سر

فرمایا لاؤ طشت ہوا زہر کا اثر رہ رہ کے کوئی کاٹتا ہے تیغ سے جگر

بڑھتا تھا جب کہ درد جگر میں امام کے

جھکتے تھے بار بار کلیجے کو تھام کے

زینب نے جلد لا کے رکھا سامنے لگن ہاتھوں سے دل پکڑ کے جھکے سرورِ زمن

آئی جو قئے تو کانِ جواہر بنا دہن الماس کھا کے لعل اُگلنے لگے حسن رنگِ زمرودی کا اثر اب عیاں ہوا معراج کی حدیث کا مطلب عیاں ہوا

فرماتے تھے حسن کے بلاؤ حسین کو تھا دمبدم یہ حکم کے لاؤ حسین کو

بھائی کا حالِ زار سناؤ حسین کو

ٹکڑے میرے جگر کے دکھاؤ حسین کو کہدو کہ جلد آئیے رحلت کا وقت ہے

سن جائیے کچھ آکے وصیت کا وقت ہے

آئے حسین اتنے میں با چشم اشکبار

چلاتے تھے کہ آپ کی غربت کے میں نثار

شبر گلے کو چوم کے کہتے تھے بار بار میں تم پہ صدقے اے میرے نانا کے یادگار مجھ سے زیادہ ظلم و ستم تم پہ ہوئینگے ہم قبر میں تمھاری مصیبت پہ روئینگے

بھیا تمھاری گود میں نکلےگا میرا دم

تم دو گے ہم کو غسل و کفن جب مرئینگے ہم ہوگا تمھارے پاس نہ کوئی بجز الم

قاتل سرہانے ہوئےگا یا خنجرِ ستم

شبر تو بعدِ مرگ بھی راحت سے سوئیگا لاشہ تمھارا گھوڑوں سے پامال ہوئیگا

بولے کٹورہ لے کے حسینِ فلک جناب

دیکھوں تو پی کے میں بھی کہ کسطرح کا ہے آب

بھائی سے لپٹی دوڑ کے زینب جگر کباب پکڑا حسن نے دستِ برادر بصد شتاب

جلدی سے پی نہ لیں یہ قلق تھا امام پر اک ہاتھ تھا کلیجہ پہ اک ہاتھ جام پر

دردِ جگر سے غش ہوئے شاہِ فلک جناب

غمگیں تو تھے حسین ہوا اور اضطراب

حاضر تھی روحِ احمد و زہرا و بوتراب وا آسماں پہ ہوگئے باغِ جناں کے باب

سر پیٹو مومنو کے قضاء کر گئے حسن

بن بھائی کے حسین ہوئے مر گئے حسن

برپا تھا اہلِ بیتِ پیمبر میں شور و شین

بہنیں پچھاڑیں خاک پہ کھاتی تھیں کر کے بین

چھاتی پہ ہاتھ مار کے چلاتے تھے حسین اب اُٹھ گیا زمانے سے ہم بیکسوں کا چین

دل اب ہمارا ٹوٹ گیا وا مصیبتا

باپ آج ہم سے چھوٹ گیا وامصیبتا اک اک کو روکتے تھے امامِ فلک سریر

آنے لگے جنازے پہ جو اس طرف سے تیر کانپی زمین ہل گیا صدمے سے چرخ پیر نکلی لحد سے فاطمہ جیبِ کفن کو چیر تابوت پر نواسے کے بدعت جو ہوتی تھی روحِ رسولِ پاک جنازہ پہ روتی تھی