Kanz e Aza

جب گرے رن میں باوفا عباس

A marsiya. Lyrics in Urdu.

جب گرے رن میں باوفا عباس

صدرِ زیں سے ہوئے جُدا عباس گرتے گرتے یہ دی صدا عباس ہو گیا آپ پر فدا عباس

آؤ یا شاهِ کربلا آؤ گرز سے شق ہے سر میرا آؤ

آئی جس دَم فرات سے یہ صدا

سُن کے بیتاب ہو گئے مولا

علی اکبر نے باپ سے یہ کہا

چلئے بابا پکارتے ہیں چچا کہہ کے اکبر بہ شور و شین چلے

دل کو تھامے ہوئے حسین چلے پیٹتے تھے حسین سینہ و سر تھے سنبھالے ہوئے علی اکبر اب جو پہنچے فرات پر سرور کی نگاہ بھائی کے جو لاشے پر پائینتی تھے کھڑے ہوئے شبیر

دل بھر آیا تو رو دیئے شبیر

چُور زخموں سے تھا علی کا پسر

جاں بلب ہے جری اُٹھے کیونکر تب کہا شاہ سے یہ رو رو کر

دیکھئے مَیں پڑا ہوں ریتی پر ہو بحل یہ میری خطا آقا

آپ ہیں حُجتِ خُدا آقا یہ وصیت ہے آپ سے آقا

خیمہ گاہ میں نہ لاش لے جانا ہو گا سب بیبیوں کا حال بُرا روۓ گی مجھ کو ثانیِٔ زهرا میرا مدفن یہاں مُدام رہے

حشر تک بس یہیں غلام رہے وقتِ آخر یہی مَلال رہا ہے سکینہ کو اِنتظار میرا تھا یہ اِقرار پانی لانے کا میں پڑا ہوں یہاں لبِ دریا کہتی ہوگی اب آئیں گے عمّو ہم کو پانی پلائیں گے عمّو

سر سے عمامہ شہ نے پھینک دیا اپنی ٹوٹی کمر کو تھام لیا کہتے تھے کیا غضب ہوا بھی‍ّا تم نے غربت میں ساتھ چھوڑ دیا ریت پر سُو رہے ہو کیا بھائی اُٹھ کے بھائی کو دو صدا بھائی پھر عَلمدار سے یہ شہ نے کہا

زندگی بھر پکارے تم آقا

آج یہ چاہتا ہے دل میرا

بھائی مجھ کو پکارو بہرِ خدا

سُن کے اِرشاد شاہِ بحروبر

بھائی بھائی کہا علی کا پسر کہہ کے بھائی لرز گیا جرار

جِسم سب سرد ہو گیا ایکبار

دی یہ آواز با شہِ ابرار

خلق سے جا رہا ہے یہ غمخوار اے قتیلِ جفا خدا حافظ اے شہِ کربلا خدا حافظ

بھائی کا دَم جو سامنے نکلا روۓ سر پیٹ کر شہِ والا مُڑ کے کڑیل جوان سے یہ کہا لے چلو مَشک اور علم بیٹا ہم کو بے آس کر گئے عباس مر گئے آہ مر گئے عباس اۓ حمایت یہ شہ کا تھا عالم

آئے خیمہ میں پھر بہ حالتِ غم کہا زینب سے یہ بدیدۂ نم

بھائی مارا گیا کرو ماتم اے بہن یہ پیامِ غم آیا لُو وہ عباس کا علم آیا