Kanz e Aza

جب کٹ گئے دریا پہ علمدار کے بازو

A marsiya. Lyrics in Urdu.

جب کٹ گئے دریا پہ علمدار کے بازو

شانوں سے جُدا ہوگئے جرّار کے بازو ریتی پہ گرے شاہ کے غمخوار کے بازو تھّرانے لگے سیّدِ ابرار کے بازو رنگ اُڑ گیا تصویر اہم ہوگئے شبیر

صدمہ یہ ہوا ضعف سے خم ہو گئے شبیر اکبر سے کہا کردو گریباں مرا پارا ہم سوگ میں ہیں قتل ہوا شیر ہمارا

عاشق مرے بچھو کا زمانہ سے سدھارا

فرما کے یہ حضرت نے عمامہ کو اُتارا

آفَت میں پَھنسی پانی کی محتاج سکینہ

بس ہوگئی دنیا میں یتیم آج سکینہ

فرما کے یہ گرتے ہوئے دوڑے شہ والا

سنبھلے کبھی خود اور کبھی اکبر نے سنبھالا تھا سینۂ اَقدس میں کلیجہ تہ و بالا

چلاتے تھے ہے ہے مری آغوش کا پالا

آگے کبھی چَلتے کبھی گِر پڑتے تھے شبیر

گبھرا کے ہر اک لاش پہ گِر پڑتے تھے شبیر کہتے تھے اُٹھا کر یہ علی اکبرِ زیجاہ

دریا کی ترائی تو ابھی دور ہے یا شاہ

فرماتے تھے آنکھونمیں بصارت نہیں اے ماہ

عباس علی کھو گئے دنیا سے ہمیں آہ اب کھینچیں گے تلوار جو رستہ نہ ملے گا اکبر ہمیں کیا بھائی کا لاشہ نہ ملے گا

حضرت کو سنبھالے ہوئے دریا پہ جو لائے

عباس علمدار سِسکتے نظر آئے اکبر نے کٹے ہاتھ تڑپتے ہوئے پائے

بھائی کو خُدا بھائی کا لاشہ نہ دکھاۓ

جُھکنے جو لگے کانپ کے غش کر گئے شبیر

ثابت علی اکبر پہ ہوا مر گئے شبیر ہے ہے شہ دیں کہکے جو روئے علی اکبر

صَدمے سے تڑپنے لگے عباس دلاور گھبرا کے بھتیجے سے کہا ائے مرے دلبر

بتلادو کدھر ہیں مرے آقا مرے سرور اکبر نے کہا غم شہ والا کو بڑے ہیں

وہ آپ کے قدموں کی طرف غش میں پڑے ہیں

سرکا کے قدم جلد یہ عباس پکارے پھیرو مرے لاشہ کو میں قربان تمھارے

چھاتی میں ہے دم موت کے آثار ہیں سارے

قبلہ کیطرف چاہئے منھ اے مرے پیارے

بیدست ہوں اس وقت یہ احسان کرو ہم پر رکھ دو مرا سَر قبلۂ عالم کے قدم پر کیا میرے لئے روتے ہو بابا کو اُٹھاؤ لِلّٰہ زمیں سے شہ والا کو اُٹھاؤ میں اُٹھ نہیں سکتا تمھیں آقا کو اُٹھاؤ

قدموں کی طرف سے مرے مولا کو اُٹھاؤ واجب لسپر مصحف ناطق کا ادب ہے

قرآں کیطرف پاؤں قیامت ہے غضب ہے

غَش میں یہ سُخن سنکے پکارے شہ ذیشاں یہ کِسکی صدا ہے میں اس آواز کے قرباں اکبر نے کہا کب سے تڑپتے ہیں چچاجاں مِل لیجئے کہ عباس کوئی دم کے ہیں مہماں پھر ہو نہ سکا ضبط امام ازلی سے لپٹے شہ دیں لاشۂ عباسِ علی سے

چلاۓ بعد غم مرے بھائی مرے بھائی کیا دل کا ہے عالم مرے بھائی مرے بھائی کیوں چشم ہے پُرنم مرے بھائی مرے بھائی اُکھڑا ہے ترا دم مرے بھائی مرے بھائی

سینہ میں اجل سانس ٹھرنے نہیں دیتی ہچکی تمھیں اب بات بھی کرنے نہیں دیتی

خشکیده زباں کو جو نہیں بات کا یارا کچھ نرگسی آنکھوں سے کرو ہم کو اشارا پتلی بھی پھری جاتی ہیں مُنھ زرد ہے سارا مَعلوم ہوا جلد ہے اب کوچ تمھارا کروٹ یہ نہیں بھائی سے مُنھ موڑ رہے ہو ہم خوب سمجھتے ہیں کے دم توڑ رہے ہو یہ کہتے ہی حضرت پہ جو رقّت ہوںٔی طاری

عباس علمدار کرا ہے کئی باری اَٹکا جو دم آنکھونمیں تو آنسو ہوئے جاری تن رہ گیا اور روح سوۓ خُلد سدھاری

چلا کے جو شہ روئے تو گھبرائی سکینہ نکلا تھا دم ان کا کہ نکل آئی سکینہ یوں کہنے لگی دوڑ کے فضّہ جگر افکار

جاتی ہو کہاں تیر نہ مارے کوئی بدکار

چلائی بہن ڈیوڑھی سے یا سید ابرار تھمتی نہیں اب ہم سے سکینہ جگر افگار

یا پھیر کے اُس بیکس و بے آس کو لاؤ یا ڈیوڑھی تلک لاشۂ عباس کو لاؤ گھبر کے سوئے خیمہ لگے دیکھنے سرور

دیکھا کہ چلی آتی ہے سر پیٹتی دُختر

زُلفیں تو ہیں بکھری ہوئی ٹوپی نہیں سر پر

جو روکتا ہے کہتی ہے گھبرا کے وہ مضطر لوگو تمھیں کچھ میرے بہشتی کی خبر ہے

بتلا دو مجھے بہرِ خدا نہر کدھر ہے

سقہ کا مرے نام ہے عباس علمدار تصویر علی کی ہے سراپا وہ خوش اطوار کاندھے پہ تو مشکیزہ ہے اور ہاتھ میں تلوار پیاسی ہوں مگر اب مجھے پانی نہیں درکار پھر آنے کی قسمیں اُنھیں دینے کو چلی ہوں میں اپنے چچاجان کے لینے کو چلی ہوں لاشہ پہ عبا ڈال کے شبیر پکارے کیوں گھر سے نکل آئیں میں قربان تمہارے گھبرا کے سکینہ نے کہا پیاس کے مارے

حضرت نے کہا بھائی تو دنیا سے سدھا رے میں تم کو اسی واسطے سمجھاتا تھا روکر تم ڈھونڈھنے آئی ہو مرے بھائی کو کھو کر

سر پیٹ کے ہاتھوں سے یہ چلائی وہ بے پر

دکھلادو مجھے لاشۂ عباس دلاور اکبر نے کہا روکے نہ مانے گی وہ دلبر

حضرت نے کہا لاشۂ عباس دکھاکر پانی کی تمنّا میں ہزاروں سے لڑے ہیں لو دیکھ لو یہ شیر سے عباس پڑے ہیں میّت سے لپٹنے کو جو وہ دوڑ کے آںٔی

حظرت نے عبا بھاںٔی کے چہرے پہ اُڑھاںٔی

چلائی سکینہ کہ دہائی ہے دھائی ریتی پہ علمدار نے یہ شکل دکھائی تھرانے لگا لاشۂ سقائے سکینہ

آنے لگی لاشے سے صدا ہائے سکینہ