ایک جاں لاکھ خریدار عياذاً باللّٰه پیاسے پر تیروں کی بوچھار عیاذاً باللّٰه نہ کوئی یار نہ غم خوار عياذاً باللّٰه ہر طرف ظالمِ خوں خوار عياذاً باللّٰه اپنے رُتبہ کا کسی کو نہ شناسا دیکھا
دیکھا پیاسے نے جسے خون کا پیاسا دیکھا تین باری ہوئے جب پیاس سے بیہوش امام
پیاس سے تین شب و روز کی ہے کام تمام اب کوئی پیاسوں میں باقی نہیں میں تنہا ہوں
چاہو پانی دو مجھے چاہو نہ دو پیاسا ہوں ابھی یہ کہہ نہ چکا تھا پسرِ شاہِ نجف
سو ہزار اہلِ جفا ٹوٹ پڑے تیغ بکف
سب کماداروں کے تیر اور دلِ شبیر حدف گرد جلاد تھے اور بیچ میں زہرا کا خلف
ہو کے بے ہوش گرے جب شہ دیں گھوڑے سے
ساتھ ہی کود پڑا شمرِ لعیں گھوڑے سے
آیا غصہ میں قریں شاہ کے وہ بد اختر تیغ اک ہاتھ میں اک ہاتھ میں کھینچے خنجر
بے ادب نے جو یہ چاہا کے چڑھے سینہ پر
شاہ چپکے سے یہ بولے کے ٹہر شمر ٹہر
سُن لے دنیا میں میرے بعد تجھے رہنا ہے تجھ سے کچھ اپنے یتیموں کے لئے کہنا ہے
کہہ تو دوں آگے عمل اُس پہ تو کر یا کہ نہ کر
شمر بولا کہ بھلا خیر کہو ائے سرور کہا شہ نے میری گردن پہ چلے جب خنجر
قبلہ رو لاش لِٹا دینا اُڑھا کر چادر اور اِتنا تو میری روح پہ احساں کرنا
دیکھ سیدانیوں کے سر کو نہ عریاں کرنا
قتل وارث ہوئے اب اُن کے ستانے سے کیا
جس کا والی نہ ہو اُس گھر کے جلانے سے کیا
آپ ہی روتے ہیں بیوؤں کے رولانے سے کیا ننگے سر پردہ نشینوں کے پھرانے سے کیا یا تو روضہ پہ نبی کے اُنہیں پہونچا دینا یا اُنہیں وارثوں کے لاشوں پہ بٹھلا دینا اور بالفرض انہیں قید بھی تو کیجو اگر منہ چھپانے کیلئے دیجیو ایک اک چادر تیسرے فاقہ سے ہیں سب حرمِ خیر بشر
فاقہ تڑوائیو اُن سب کا برائے داور پیاسے بچوں کو مرے پانی ذرا سا دینا اور اگر پانی نہ دینا تو دِلاسا دینا
بیٹی اک تین برس کی ہے سکینہ مری آہ
دیکھ تو اُس کو طمانچے نہ لگانا گمراہ وہ جو روئے نہ گُھرکنا نہ ڈرانا لِلّٰه
میں نے نازوں سے اُسے پالا ہے خالق ہے گواہ کل تلک تھی میرے سینہ کی وہ سونے والی اب وہ ہے صاحبِ ماتم میری ہونے والی
شمر بولا کے سکینہ کو بہت چاہتے ہو
شہ نے فرمایا کہ ہاں سب میں ہے پیاری مجھکو
سنگ دل بولا تو بس خیر تم اب کچھ نہ کہو میں نہیں سنتا سکینہ کی سفارش نہ کرو میں طمانچے اُسے مارونگا گُھرک بھی دونگا
جتنی دی جائے گی ایذا میں اُسی کو دونگا