ایماں کی جان کیا ہے محبت علی کی ہے
راحت جو قبر کی ہے وہ الفت علی کی ہے
سائل بکف ہیں سب وہ سخاوت علی کی ہے
قاتل کو دی اماں وہ مروت علی کی ہے
عادل ہو پیشوا ہو مدارالمہام ہو گر ہو نبی کے بعد تو ایسا امام ہو
صدقے غلام تیری مصیبت کے یا علی ائے جانشیں جنابِ رسالت کے یا علی
قرباں لہو بھری تیری صورت کے یا علی ایام ہیں یہ تیری شہادت کے یاعلی یہ ظلم بے جہت یہ ستم بے سبب ہوا تلوار تیرے سر پہ لگی کیا غضب ہوا اُنیسویں سے آپ کا ماتم ہے یا علی
خوں ہو گئے دلوں کا یہ عالم ہے یا علی
دفتر جہاں کا درہم و برہم ہے یا علی ماہ صیام ماہِ محرم ہے یا علی مولا کی نذر کو گہرِ اشک لاۓ ہیں یہ روزہ دار آپ کے پرسہ کو آئے ہیں مولا شگافتہ ہوا سجدے میں سر تیرا
سید تباہ ہو گیا کوفہ میں گھر تیرا
سرور الم دلوں کو ہے شام و سحر تیرا
آقا انہیں دنوں میں ہوا تھا سفر تیرا
عالم سے بے خبر تھے خضوع و خشوع میں تلوار جب لگی تھی جھکے تھے رکوع میں گھر میں خدا کے قتل ہوا روزہ دار ہائے ہے ہے امام ہائے شہ ذوالفقار ہائے ائے خانہ زاد حق شہ طاعت گزار ہائے مولد حرم میں ہے تو نجف میں مزار ہائے یہ بندگی نثار جنابِ امیر کے نکلے تو گھر سے مر کے خدائے قدیر کے
لایا تھا زہر میں وہ جفا جو بجھا کے تیغ مولا گرے زمین پہ سجدے میں کھا کے تیغ
غل پڑ گیا کہ سر پہ لگی مرتضٰی کے تیغ
کھائی خدا کے شیر نے گھر میں خدا کے تیغ گہرا ہے زخم فرقِ امامِ حجاز پر
سر سے ٹپک رہا ہے لہو جا نماز پر
شیر خدا جو ہاتھوں سے تھامے تھے اپنا سر
خوں دونوں کہنیوں سے ٹپکتا تھا خاک پر
بھاگا جو ابنِ ملجمِ ملعون و بد سیر پکڑا اُسے علی کے محبوں نے دوڑ کر لائے جو ہاتھ باندھ کے مولا کے سامنے
قاتل پہ مسکرا کے نظر کی امام نے
فرمایا میں نے کونسی کی تھی تیری خطا پاداش نیکیوں کی یہی ہے جہاں میں کیا کیا میں برا امام تھا ائے بانیٔ جفا
رویا جو سر جھکا کے تو مولا نے یہ کہا
اس درد میں بھی سب کے مرض کی دوا ہیں ہم
باندھو نہ اس کے ہاتھ کہ مشکلکشاء ہیں ہم
دونوں شبیں علی کو تڑپتے ہوئیں بسر لیتے تھے اس طرف کبھی کروٹ کبھی اُدھر روکر دباتے پاؤں جو شبیرِ نامور رہ جاتے تھے امامِ دو عالم ہلا کے سر روداد تھی نظر میں مجسم حسین کی
آواز سن کے روتے تھے زینب کے بین کی
جب بیسویں کا دن بھی تڑپ کر ہوا تمام اُم البنیں سے چونک کے کہنے لگے امام
دو دن سے آہ سب میرے بچے ہیں بے طعام
فاقہ میں ان پہ گزریگی کیا آج کی بھی شام اچھا ہوں اب تو میں یہ عبث بیقرار ہیں کھانا انھیں کھلاؤ کہ سب روزہ دار ہیں
بولے حسین باپ سے ہاتھوں کو جوڑ کر
سب کھائیں پھر جو آپ تناول کریں اگر
فرمایا رزق اُٹھ گیا مجبور ہے پدر پانی بھی اب گلے سے اترتا نہیں پسر
دعوت علی کی آج ہے گھر میں الہ کے روزہ کھلے گا ساتھ رسالت پناہ کے
ِچپ ہو گئے یہ کہہ کے شہنشاہ کائینات
سمجھے یہ سب کہ غش میں ہیں شاہِ نکو صفات
جس وقت باقی رہ گئی کچھ کم گھڑی وہ رات تیغِ اجل نے قطع کیا رشتۂ حیات تڑکا تھا نور کا کہ سفر کر گئے علی
سب شیعہ بے امام ہوئے مر گئے علی