اُمت پہ پسر اپنے فدا کرتی ہے زینب
سینے سے دل و جاں کو جُدا کرتی ہے زینب
چھٹتے ہیں پسر شکرِ خدا کرتی ہے زینب
جو صبر کا حق ہے وہ اَدا کرتی ہے زینب گھوڑوں پہ جو وہ دونوں پُر ارمان چڑھے ہیں ماں کہتی ہے بیٹے میرے پروان چڑھے ہیں
شہ کہتے ہیں ہمشیر یہ کیا کرتی ہے دیکھو اکبر کو میرے بھیجو انہیں رن میں نہ بھیجو
وہ کہتی ہے صدقے گئی تم اس میں نہ بولو
زینب نے اِسی دن کیلئے پالا تھا اِن کو تم تو اِنہیں رن میں نہیں بھجواتے ہو بھائی پھر کس لئے ہمشیر سے شرماتے ہو بھائی
بھجوانے کا اکبر کے نہ تم نام لو بھیا اکبر کی بَلا اِن کو لگے وہ رہے جیتا اول تو وہ ہمشکلِ نبی حُسن میں یکتا اور دوسرے زینب کو ہے سہرے کی تمنا
آسمان مجھے بیٹوں کا داغ ائے شہ دیں ہے اِن میں کوئی اٹھارہ برس کا تو نہیں ہے لشکر کی صفیں چیر کے دریا پہ چلے آئے لہراتے ہوئے دیکھ کے پانی کو کہا ہائے کیوں مشک سکینہ کی نہ کاندھے پہ اُٹھا لائے
کس سے کہیں جو مشک ہمیں خیمے سے دے جائے
ہاتف نے ندا دی کہ عبث رنج و قلق ہے
سقائی سکینہ کی تو عباس کا حق ہے
زینب نے در خیمہ سے میداں کو جو دیکھا پایا نہ کہیں بیٹوں کو گھبرائی وہ دکھیا
فضہ سے کہا بیٹے میرے قید ہوئے کیا
وہ بولی کہ کچھ سنتی ہو کیا کہتے ہیں اعدا لشکر کی صفیں چیر کے دو روز کے پیاسے
دریا پہ گئے ساقیٔ کوثر کے نواسے
زینب نے کہا کیوں گئے دریا پہ غرض کیا پی لینگے جو پانی تو غضب اور بھی ہوگا
بھائی ہے میرا تین شب و روز کا پیاسا
فضہ انہیں آواز دے یہ دھیان ہے بیجا
اک بوند بھی پانی کی کریں نوش تو سَم ہے
اک دھار نہ میں دودھ کی بخشو گی قسم ہے
گر پی لیا پانی تو بس اب گھر میں نہ آئیں
اب شکل بھی مجھ کو نہ دکھا ئیں نہ دکھائیں اب سر بھی میرے بھائی کی خاطر نہ کٹائیں راحت کے عوض اِن سے یہ صدمے ہم اُٹھائیں
مرجائیں گے تو گود میں لاشوں کو نہ لوں گی ماموں انہیں روئیں گے تو میں رونے نہ دونگی
ِفضہ ہوئی خیمے سے رواں جانب میداں
ِکیا دیکھتی ہے نہر پہ ہے فوج فراواں
زینب کے جگر گوشوں پہ ہے تیروں کا باراں ناگاہ ہوا شور کہ مشکل ہوئی آساں لو جان و دلِ دخترِ زہرا گئے مارے
دو روز کے پیاسے لبِ دریا گئے مارے