آج امامِ رضا شہید ہوئے
شاہِ ہر دوسرا شہید ہوئے
سہہ کے رنج و بلا شہید ہوئے کھا کے زہرِ دغا شہید ہوئے
شاہ کے سب غلام روتے ہیں ہم سے رخصت امام ہوتے ہیں تھا جو مامون رشید بانیٔ شر
دشمنِ خاندانِ پیغمبر تھا وہ آمادہ زہر دینے پر
شاہ کو پھر طلب کیا آخر
سُن کے شاہِ انام گھر سے چلے ہو کے رخصت امام گھر سے چلے
جب نظر آئی قبرِ پیغمبر ہل گیا سینے میں دلِ مضطر
جا کے لپٹے لحد سے پھر سرور اور کیا یہ خطاب رو رو کر ایک لحظہ نہ چین پایا ہوں رُخصتِ آخری کو آیا ہوں کہہ کے رخصت ہوئے امامِ رضا تھا مدینہ میں تہلکہ برپا کوئی قدموں سے لپٹا جاتا تھا اور لبوں پر کسی کے تھی یہ صدا ائے شہ اوصیا خدا حافظ ائے امامِ رضا خدا حافظ
طئے منازل کو کر کے پھر اک بار
آئے دربار میں شہ ابرار اُٹھا تعظیمِ شہ کو وہ مکار پاس اپنے بٹھا لیا زنہار تب کہا شاہ سے یہ وہ مغرور
آپ اِس وقت کھائیے انگور
خبر سے اُس لعیں کے واویلا کھا کے انگور کو اُٹھے مولا پوچھا مامون نے چلے کس جا کہا حضرت نے تو جہاں بھیجا کہہ کے یہ شاہِ خاص و عام چلے
سر پہ ڈالے عبا امام چلے گھر میں آئے تڑپ رہے تھے امام
زہر نے کر چکا تھا اپنا کام
قۓ جو آئی لیا جگر کو تھام تھا نہ اک لحظہ آپ کو آرام یاس تھی بیکسی تھی غربت تھی میرے مولا پہ کیا مصیبت تھی مضطرب تھے بہت شہ زیجاہ
غش جو طاری ہوا امام پہ آہ ہچکی جو آئی موت کی ناگاہ پھر کہا لا اله الا الله تن سے روحِ رضا اِدھر نکلی
قبر سے فاطمہ اُدھر نکلی
آئیں لاشے پہ فاطمہ زہرا ہے گریبان چاک سر ننگا پیٹتی ہے یہ کہہ کہ سر اپنا تیری غربت پہ فاطمہ ہو فدا
بیکسی میں پڑا یہ لاشہ ہے کوئی تجھ پر نہ رونے والا ہے
آج ہے اُس امام کا ماتم
جس کا غربت میں ہائے نکلا دم
جمع آلِ عبا ہیں سب باہم
باقرو اور جعفر و کاظم
جس نے دکھ زندگی میں پائے ہیں اُس کی میت پہ رونے آئے ہیں ائے حمایت یہ باسرِ عریاں
سب جو بیکس پہ کرتے ہیں گریاں رائیگاں یہ نہ جائے گا احساں ان کو دینگی دعا حسین کی ماں ایک رومال ساتھ لائی ہیں
فاطمہ اِس عزا میں آئی ہیں